10 مارچ 2014 - 20:30
يوکرين کا بحران روس اور مغرب کے درميان کشيدگي ميں شدت

يوکرين کے بحران کے تعلق سے روس اور مغرب کے درميان کشيدگي بڑھ گئي ہے -

ابنا: امريکي وزارت خارجہ نے روس سے، يوکرين کے بحران کے حل ميں کھلي مدد کرنے کي اپيل کي ہے-فرانس پريس کي رپورٹ کے مطابق امريکي وزارت خارجہ نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ روس کو چاہيے کہ يوکرين کے بحران کے حل و فصل کي خاطر امريکا کي تجويز کا واضح اور مدلل جواب دے-امريکي وزارت خارجہ کے بيان ميں صراحت کے ساتھ کہا گيا ہے کہ جان کيري نے گزشتہ ہفتے روسي وزيرخارجہ سر گئي لاؤروف کے ساتھ ہونے والي اپني تين ملاقاتوں ميں انہيں بعض تجاويز پيش کي ہيں کہ جس کا  روس کي جانب سے ابھي تک کوئي جواب نہيں ديا گيا ہے- ادھر امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان جين ساکي نے جان کيري کے مجوزہ دورہ روس کے سلسلے ميں ماسکو اور واشنگٹن کے درميان اتفاق رائے نہ ہونے کے بارے ميں کہا کہ امريکا، يوکرين کے سلسلے ميں ماسکو کے ساتھ بلا واسطہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور جب تک کرملين، کيف کے ساتھ بات چيت کے لئے اپنے  ٹھوس پروگرام کا اعلان نہيں کرتا، جان کيري روس کا دورہ نہيں کريں گے-جين ساکي نے مزيد کہا کہ روس کو، يوکرين کي موجودہ حکومت کو تسليم کرکے اپني افواج کو کريميا سے نکال لينا چاہيے- درايں اثنا روسي وزير خارجہ سرگئي لاؤروف نے يوکرين کے بحران کے حل کے لئے امريکي تجاويز کومسترد کر ديا ہے-انٹر فيکس کے مطابق سرگئي لاؤروف نے کہا ہے کہ يوکرين کے مسائل کے حل وفصل کے لئے امريکيوں نے جو تجاويز پيش کي ہيں روس انہيں مناسب نہيں سمجھتا-ادھر برطانيہ کے وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ بعض روسي حکام کو پابنديوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- ڈيوڈ کيمرون نے برطانيہ کي پارليمنٹ سے اپنے خطاب ميں کہا کہ روسي حکام نے يوکرين کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کي کوشش کي تو يورپي کونسل نے بڑے پيمانے پر اقتصادي پابنديوں کي منظوري ديدي ہے- ڈيوڈ کيمرون نے مزيد کہا کہ ان پابنديوں کا يورپي يونين کے رکن ملکوں من جملہ برطانيہ پر خاصہ گہرا اثر پڑے گا تاہم جارحيت کے مقابلے ميں عدم استقامت کا نقصان زيادہ ہوگا- فرانس کے وزير خارجہ لوران فابيوس نے دھمکي دي ہے کہ اگر ماسکو نے مغرب کي پيشکش کا  جواب نہيں ديا ، يا منفي رد عمل دکھايا تو روس کے خلاف رواں ہفتے تک روس کے خلاف اس ہفتے تک پابندياں عائد کردي جائيں گي- يوکرين کے بحران ميں شدت آنے کے ساتھ ہي امريکا نے بحيرہ اسود ميں بلغاريہ اور رومانيہ کے ساتھ جنگي مشقيں شروع کردي ہيں-پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق بلغاريہ کي وزارت دفاع نے اعلان کيا ہے کہ تين ملکوں کي بحري افواج منگل کے روز سے رومانيہ کے جنوب مشرقي علاقے ميں PSSEX کے نام سے ہورہی مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں جن کا مقصد مواصلاتي امور ميں مذکورہ تينوں ملکوں کي توانائي اور ہماہنگي کا اندازہ لگانا ہے-اس رپورٹ يے مطابق بلغاريہ کا ايک بحري جہاز، رومانيہ کے تين اور ايس ايس ٹريکسن سے موسوم  ايک امريکي تباہ کن جہاز اس میں حصہ  لے رہے ہيں- مذکورہ امريکي جہاز بارہ سے چودہ مارچ تک بلغاريہ کي بندر گاہ وارنا پر لنگر انداز ہو جائے گا-......./169