ابنا: وزارت خارجہ کي ترجمان مرضيہ افخم نے اپني ہفتہ وار پريس کانفرنس ميں ايران کے خلاف امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان جنيفر ساکي کے دعوے کي ترديد کي اور کہا کہ امريکي حکام کے دعوے حقيقت سے عاري ہيں اور اس طرح کے دعوؤں سے ان کي توسيع پسندي کےعزائم کا پتہ چل جاتا ہے -واضح رہے کہ امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان جنيفر ساکي نے اتوار کے روز اپنے مداخلت پسندانہ بيان ميں کہا تھا کہ ايران کے ساتھ پانچ جمع ايک کے ايٹمي مذاکرات ميں پشرفت کي صورت ميں بھي ايران ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي، دہشت گردي کي سرگرمياں اور سيکورٹي کونسل ميں ايران کے خلاف منظور ہونے والي کئي قراردادوں جيسے مسائل کے بارے ميں پائي جانے والي تشويش بدستور باقي ہے-ايران کي وزارت خارجہ کي ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے بے بنياد دعوؤں کا ايٹمي مذاکرات سے کوئي تعلق نہيں ہے اور ايران نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پانچ جمع ايک کے ساتھ ايران کے مذاکرات صرف ايٹمي دائرے ميں ہوں گے -انہوں نے کہا کہ امريکا کو ايراني عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے مناسب اقدامات اور امريکہ کي توسيع پسندي کے بارے ميں ايراني عوام کي تشويش کو دور کرنا چاہئے -انہوں نے دہشت گردي کے بارے ميں ايران کے موقف کو شفاف بتايا اور کہا کہ تہران اس لعنت سے بنيادي طريقے سے نمٹنے کا خواہاں ہے - انہوں نے کہا کہ ہر ملک اپنے لئے دہشت گردوں کي فہرست تيارکر سکتا ہے ليکن اس سے دہشت گردي کا خاتمہ کيا جاسکتا اور نہ ہي دہشت گردي کے مسئلے کے حل ميں کوئي مدد مل سکتي ہے -......./169
10 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513092
وزارت خارجہ کي ترجمان نے کہا ہے کہ پانچ جمع ايک گروہ کے ساتھ ايٹمي مذاکرات کا دوسرے موضوعات سے کوئي تعلق نہيں ہے -