ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ نے کہا کہ مشرق وسطي کے ذخائر اور مفادات پر تسلط جمانے کے تعلق سے عالمي طاقتوں کي سازشيں ناکام ہوگئيں -ڈاکٹر علي لاريجاني نے تہران ميں عالمي طاقت کے توازن ميں عالم اسلام کے کردار کے زير عنوان منقعدہ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑي طاقتوں نے علاقے کے لئے منجملہ افغانستان، عراق، تيونس، شام اور مصر کے لئے بہت سے منصوبے بنائے ہيں مگر وہ اپنے کسي بھي منصوبے ميں کامياب نہيں ہوسکيں۔ انہوں نے کہا کہ ان بڑي طاقتوں کے منصوبے نہ صرف يہ کہ پورے نہيں ہوئے بلکہ حالات ان کي مرضي کے برخلاف سامنے آئے ہيں -اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے کہا کہ سن دوہزار چھے ميں لبنان کي تينتيس روزہ جنگ کا نتيجہ بڑي طاقتوں کے لئے غير متوقع تھا کيونکہ وہ يہ نہيں سمجھ رہي تھيں کہ لبنان، اسرائيل کے مقابلے ميں غير مساوي جنگ ميں کامياب ہوجائے گا -ڈاکٹر لاريجاني نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ طاقتوں کے درميان تقسيم بندي اب ختم ہورہي ہے اور عالمي سطح پر مختلف طاقتوں کے ابھر کرسامنے آنے کے واقعات ايک حقيقت ہيں، کہا کہ شام، عراق اور افغانستان ميں بڑي طاقتوں کے منصوبے کي ناکامي اس بات کو ثابت کرتي ہے کہ عالمي سطح پر طاقت کا توازن تيزي کے ساتھ تبديل ہورہا ہے -پارلمينٹ کے اسپيکر نے اس بات کا ذکرکرتےہوئے کہ نئےحالات قوموں کي آزادي اورانہيں جمہوريت کي فضا ميں سانس لينے کاموقع فراہم ہونے کي خوشخبري سنا رہے ہيں، کہا کہ معاشرے ميں سياسي شعور کا بيدار ہونا، سياسي تحريکوں کا جنم لينا اور علاقے کي سطح پر پرجوش انقلابات اور تحريکوں کي لہر يہ وہ حقائق ہيں جو ثابت کرتے ہيں کہ معاشروں ميں اسلامي بيداري پہلے سے کہيں زيادہ پيدا ہوگئي ہے۔ ڈاکٹر لاريجاني نے کہا کہ خاص طور پر گزشتہ تين عشروں کے دوران علاقے ميں جد وجہد اور تحريکيں کہ جن کي جڑيں اصل اسلامي تعليمات ميں پيوست ہيں، مشرق وسطي ميں اہم ترين واقعات ہيں-پارليمنٹ کے اسپيکر نے کہا کہ عالم اسلام کو اپني اندروني مشکلات کو فراموش نہيں کرنا چـاہئے اور اس کو اس بات کي توقع نہيں رکھنا چاہئے کہ عالمي سامرجي طاقتيں ان سے دشمني نہيں کريں گي -ڈاکٹرلاريجاني نے عالم اسلام کي مشکلات پر قابو پانے کے لئے اسلامي ملکوں کے اتحاد کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي اسٹريٹيجي يہ ہے کہ وہ اپنے ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اچھے سياسي اور اقتصادي تعلقات برقرار کرے -واضح رہے کہ عالمي طاقت کے توازن ميں عالم اسلام کے کردار کے زير عنوان بين الاقوامي کانفرنس منگل کو تہران ميں شروع ہوئي۔ اس کانفرنس ميں عالم اسلام کي اہم شخصيات منجملہ مجلس اعلائے اسلامي عراق کے سربراہ عمارحکيم ، جہاد اسلامي فلسطين کے سکريٹري جنرل رمضان عبداللہ اور عراق کے سابق وزير اعظم ابراہيم جعفري شريک ہيں -......./169
10 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513090
اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے تہران ميں، طاقت کا عالمي توازن اور اسلامي دنيا کے زير اہتمام بين الاقوامي کانفرنس کي افتتاحي تقريب سے خطاب ميں کہا کہ مشرق وسطي کے ذخائر اور مفادات پر تسلط جمانے کے لئے عالمي طاقتوں کي سازشيں ناکام ہوگئي ہيں -