ابنا: پاکستان میں بریلوی مسلک کی پچاس سے زیادہ تنظیموں اور گروپس نے طالبان کے خلاف اتحاد تشکیل دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتہاپسندوں اور ان کی حمایت کرنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ریاست کے دشمن اور غدار قرار دے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے صوبے پنجاب کے صدر مقام لاہور میں تحفظِ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام کئی جماعتوں کی کانفرنس میں کیا گیا۔اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عبدالحبیب، مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے رہنما ناصر عباس شیرازی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ایک وفد نے خصوصی دعوت پر اس کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی سرپرستی اور حمایت کو ریاست کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا جانا چاہئیے، پھر جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہوں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور ملک سے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے سخت سزائیں دی جائیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالف کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے مذاکراتی عمل کو ختم کرنے کی کوشش کی اور یہ پالیسی بُری طرح ناکام ہوئی ہے اور صرف جنگ ہی امن قائم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں، فوج کو شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ایک 'فری ہینڈ' دینا چاہئیے اور جب تک ان کا خاتمہ نہ ہوجائے آپریشن جاری رہنا چاہیے۔‘‘مشترکہ اعلامیے میں زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ پوری قوم مسلح افواج کے پیچھے متحد ہوکر کھڑی ہے اور حکومت کو چاہئیے کہ وہ فیصلہ کن فوجی آپریشن کے ذریعے شدت پسندوں کا خاتمہ کرے۔ اس بیان میں پاکستان کی بعض مذھبی جماعتوں پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے انہیں طالبان کا سیاسی ونگ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مذہبی تنظیمیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کا اثرورسوخ پیدا کررہی ہیں۔کانفرنس میں ملک گیر 'گو طالبان گو' مہم شروع کرنے اور جمعہ 28 فروری کو طالبان مخالف دن منانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲