ابنا: سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کا باب بند کر دیا جائے، آئین کا مذاق اڑانے والے ملک کے غدار ہیں، طالبان کی طرف سے آئین کو غیراسلامی قرار دینے کے بعد مذاکرات کا کوئی جواز نہیں رہا، اس لیے مذاکراتی ٹیم کو تحلیل کر دیا جائے، پاک فوج کو ملک دشمن نمبر 1 قرار دینے والوں کو ریاست کا دشمن نمبر 1 قرار دیا جائے، مذہب کو دہشت کی علامت بنانیوالے دین دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مذاکرات کے مجرمانہ عمل کے دوران شہید ہونیوالوں کا خون حکمرانوں کی گردن پر ہے، دہشتگردوں کے اڈوں پر بمباری کا خیرمقدم کرتے ہیں، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیا جائے۔ حکومت فوج کو فری ہینڈ دینے کیلئے ہچکچاہٹ سے کام نہ لے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر فضل رسول رضوی کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کیلئے آنیوالے علماء و مشائخ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو نہ ماننے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ دہشت گردوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ضروری ہو چکا ہے۔ قوم آپریشن کی صورت میں فوج کے شانہ بشانہ ہو گی۔ پاک فوج ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ باغیوں سے بات چیت کا مطلب ان کی بالادستی تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد حکمرانوں کی کمزوری کے باعث مضبوط ہوئے۔ دہشت گردوں کی سفاکیت کا درست جواب آپریشن ہی ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ فوجیوں کو ذبح کرنے والے اسلامی تعلیمات، پختون روایات اور انسانی اقدار کی بدترین خلاف ورزی کر رہے ہیں، حکومت کی آٹھ ماہ کی کارکردگی مایوس کن ہے، نئے حکمرانوں نے انتخابی وعدے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام حکمرانوں سے مایوس اور بیزار ہے، قوم کو ڈاکوں، دھماکوں اور فاقوں کے سوا کچھ نہیں ملا، حکومت غربت کی بجائے غریبوں کو ختم کر رہی ہے۔ امن کے نام پر ریاست کی پسپائی تباہ کن ہو گی۔ ساٹھ ہزار شہداء کی قربانیوں کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔ حکمران اپنی آنکھیں اور کان بند نہ کریں اور دہشت گردی کے متاثرین کی چیخیں سنیں۔ طالبان پاکستان کی آئینی و جمہوری بنیادیں مسمار کرنا چاہتے ہیں۔ آئین کو غیراسلامی قرار دینا گمراہی ہے۔ خودکش حملوں سے شریعت نافذ نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کرنے والے خدائی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ مذہب کے نام پر عوام کو اسلامی ریاست کے خلاف اکسانا غلط ہے۔ مذہب کا ناجائز استعمال روکا جائے۔ 35 پنکچروں والی جمہوریت جعلی ہے۔
.....
/169