21 فروری 2014 - 20:30
شام کے خلاف امريکا اور اس کے اتحاديوں کي ريشہ دواني جاري

شامي حکومت اور مخالفين کے درميان جنيوا دو مذاکرات کے اختتام کو ابھي چند ہي روزگذر رہے ہيں ليکن امريکا اور اس کے اتحاديوں نے شام ميں اپني جنگ پسندانہ سرگرمياں تيز کردي ہيں -

ابنا: شامي حکومت اور مخالفين کے درميان جنيوا دو مذاکرات کے اختتام کو ابھي چندہي روزگذرہے ہيں ليکن امريکا اور اس کے اتحاديوں نے شام ميں اپني جنگ پسندانہ سرگرمياں تيز کردي ہيں –امريکي اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ امريکا اور اس کے مغربي اور عرب اتحاديوں نے شام ميں سرگرم مسلح گروہوں کے لئے منظم طريقے سے ہتھياروں کي فراہمي اور سپلائي پر اتفاق کرليا ہے –امريکا اور اس کے اتحاديوں نے اس بات پر بھي اتفاق کيا ہے کہ شام ميں مسلح گروہوں کو اپنے ہتھياروں کي سپلائي تيز کرديں –مغربي ذرائع کا کہنا ہے کہ امريکا اور اس کے اتحاديوں کے درميان ہونےوالے سمجھوتے کے تحت ايسے پروگرام بھي زيرغور ہيں جس کے تحت ترکي کے راستے مسلح گروہوں کے لئے  رسد رساني کو دوبارہ پوري طرح فعال کيا جائے –شام ميں مسلح گروہوں کے لئے امريکا اور اس کے اتحاديوں کي طرف سے ہتھياروں کي سپلائي پر اتفاق کي خبريں ايک ايسے وقت سامنے آئي ہيں جب بہت سے سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ شام کا بحران امريکا اور اس کے مغربي اور عرب اتحاديوں کي جنگ پسندانہ پاليسيوں کي وجہ سے ہي جاري ہے –کينيڈا کي نيوز ويب سائٹ گلوبل ريسرچ نے بھي اپنے مقالے ميں جس کا عنوان ہے شام ميں سعودي عرب اور اسرائيل کي ترجيحات،  لکھا ہے کہ صہيوني حکومت اور سعودي عرب نے شام کو نابود کرنے کے لئے آپس ميں اتحاد کرليا ہے –گلوبل ريسرچ نيوز ويب سائٹ نے اپنے مقالے ميں لکھا ہے کہ امريکي حکومت نے شام ميں بشاراسد کي حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے اسٹيک اينڈ کريٹ والي پاليسي اپنا رکھي ہے –ليکن جنيوا دو مذاکرات نے جو ابھي حال ہي ميں ختم ہوئے ہيں شامي حکومت کي حکمت عملي کے مقابلے ميں واشنگٹن کي حکمت عملي کے ناکام ہوجانے کو برملا کرديا ہے –مذکورہ مقالے ميں اس نکتے کي بھي ياد آوري کي گئي ہے کہ امريکا اپني اس شکست کا بدلہ لينے کے لئے اب شام ميں مسلح گروہوں کو بھاري مقدار ميں ہتھيار فراہم کررہا ہے –کنيڈا کي ويب سائٹ گلوبل ريسرچ نے اسي طرح اس بات کا بھي اعتراف کيا ہے کہ سعودي عرب نے مادي اور سياسي اعتبار سے شام ميں تکفيري دہشت گردوں کي حمايت ميں بہت زيادہ اپنا کردار اداکيا ہے –اس ميں شک نہيں کہ شام ميں خانہ جنگي کي آگ کے شعلے زيادہ سے زيادہ بھڑکنے ميں خليج فارس کے عرب ملکوں کي جانب سے تکفيري گروہوں کے لئے بے دريغ حمايت رہي ہے –يہ وہ گروہ ہيں جن کے بارے ميں اقوام متحدہ ہے کہ بين الاقوامي سطح پريہ گروہ دہشت گردي کو رواج دے رہے ہيں –ان تمام باتوں کےساتھ ساتھ اقوام متحدہ کےسکريٹري جنرل بان کي مون نے کہا ہے کہ شام کا بحران صرف اور صرف بات چيت اور سياسي طريقے سے ہي حل کيا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کو سياسي طريقے سے حل کرنے کے لئے بات چيت کا راستہ اپنانا نہايت ضروري ہے -

.......

/169