19 فروری 2014 - 20:30
امریکہ کا افغانستان سے فوجی انخلا کے منصوبے پر خدشات کا اظہار

رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ طالبان پاکستان میں موجود پناہ گاہیں اپنی عسکری قوت میں اضافے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں.

امریکی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے منصوبے پر خدشات کا اظہار کردیا۔ ابنا: امریکی ادارے سی این اے اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان فوج کی موجودہ استعداد دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے، 2014 کے آخر میں اتحادی افواج کے انخلا سے قبل افغان فوج کی مکمل تربیت نہ کی گئی تو افغانستان پھردہشت گردوں کی جنت بن سکتا ہے، اس لیے افغانستان میں فوج کی تربیت کے لیے 2018 تک بین الاقوامی ٹرینرز اور مشیروں کی موجودگی ضروری ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ طالبان پاکستان میں موجود پناہ گاہیں اپنی عسکری قوت میں اضافے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، پہلے مرحلے میں طالبان 16-2015 تک افغانستان کے دیہی علاقوں میں افغان سیکیورٹی فورسز پر دباوٴ بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اپنا اثر ورسوخ اتحادی افواج کے خالی کیے گئے علاقوں تک بڑھائیں گے۔ اگلے مرحلے میں طالبان شہری علاقوں میں بڑے حملے کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واضح رہے کہ امریکی طالبان اور القاعدہ کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کا نعرہ لگا کر افغانستان پر چڑھ دوڑے تھے اور ان ہی گروہوں کی موجودگی ان کی آموجودگی کا بہانہ بنی تھی اور اب جب دوبارہ وعدہ خلافی کرکے یہاں دوبارہ رہنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے تو پھر بھی ان گروہوں کا نام لیا جارہا ہے چنانچہ توقع کی جارہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آئے گی اور امریکی بہانہ جوئی کے لئے دستاویز فراہم کی جائے گی اور ایک بار پھر ثابت ہوگا کہ طالنان اور تمام مشابہ دہشت گرد امریکی مفاد کے لئے کام کررہے ہیں۔ /٭۔٭