ابنا: آیت اللہ جوادی آملی نے فقہ کی نظرمیں جوہری توانائی کے موضوع پر منعقد ہ سیمینار کے نام اپنے پیغام میں انسانی ہدایت اورپرامن دنیا کی تعمیر کے لیے اسلا م کی رحمانیت کی نگاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جو امن کی بنا پر معاشرے کی تعمیر کی ہدف کے حصول کے لیے اپنے بنیادی اصول پیش کرتا ہے اوراس میں مطلق رحمانیت حاکم ہے اورا س دین میں بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کوحرام جانتا ہے کیونکہ اسلام بشریت کے تحفظ کے لیے ہے نہ کی اس کی تباہی اوربربادی کے لیے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اسلام مقامی، علاقائی اوربین الاقوامی جہات میں امن وسکون کا پیغام دیتا ہے اوراس نے عالمی میپ بنانے کے لیے پروگرام پیش کیا ہے اورہمیشہ دو جامع اصولوں کی تاکید کرتا ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے پیغامات میں دوجامع اورکلی پیغامات دیے ہیں اوردنیا کے لوگوں کوبشارت دی ہےجن میں سے بشری حیات، عقل ،عدل ومساوات کے پیغامات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب انسانی حقوق کی بنیاد ہیں۔آیت اللہ جوادی آملی نے کہا ہے کہ پروردگارعالم کہ جس کی رحمانیت عرش پرجلوہ گرہے، بشر کے لیے رحمت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا اسی بنا پراللہ تعالیٰ نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے۔ اسلام بھی اللہ تعالی کی رحمانیت کی اصل پرعمل پیرا ہے کہ جس کا زاد راہ پرامن دنیا کی تعمیر ہے اور دین مقدس اسلام کسی صورت میں بھی لوگوں کے قتل عام کی دعوت نہیں دیتا ہے۔انہوں نے ائمہ اطہارعلیہم السلام کی اسلامی حکومت کے نمونوں اورمعاشرے میں امن وسکون کے قیام کے طریقہ کارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت داود علیہ السلام اورحضرت سلیمان علیہ السلام نے معاشرے میں عظیم حکومت تشکیل دی تھی۔ قرآن کریم ان دونبیوں کی حکومت کی قدرت کے بارے فرماتا ہے کہ ہم نے ان کے لیے تانبے اورلوہے کے ذخائرکے چشمے جاری کیے۔آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا ہے کہ حضرت سلیمان نے کبھی بھی اپنی اس طاقت سے بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں بنائے بلکہ معاشرے کی حٖفاظت کے لیے اس سے استفادہ کیاہے۔دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ اگردوکافرقبیلوں کے درمیان جنگ چھڑجائے تو ان دونوں قبیلوں کوتباہی پھیلانے والے ہتھیارفروخت کرنے کومنع کرتا ہے۔انہوں نے آخرمیں کہا ہے کہ اس وقت دنیا کوایسے مقام پرپہنچ جانا چاہیے کہ نہ فقط بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاربنانے سے اجتناب کرے بلکہ جن اقوام اورحکومتوں نے اس ہتھیاروں کو بنایا ہوا ہے انہیں تباہ کردیں۔
.......
/169