ابنا: مذاکرات ميں وزير خارجہ محمد جواد ظريف ايراني وفد کي قيادت کر رہے ہيں جبکہ پانچ جمع ايک گروپ کي قيادت يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن کے پاس ہے-ويانا مذاکرات اس لحاظ سے انتہائي اہم تصور کئے جارہے ہيں کہ ان کا مقصد ايران کے جوہري معاملے کے بارے ميں کسي حتمي راہ حل تک پہنچنا ہے –وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے پير کي شام يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامي کے اس بيان کا حوالہ ديا کہ ايراني قوم اپنے عہد کي کبھي خلاف ورزي نہيں کرے گي اور ہم جو وعدہ کرتے ہيں اس پر جان دل کے ساتھ عمل کرتے ہيں- وزير خارجہ نے اسي کے ساتھ واضح کيا کہ ايران اپنے حق سے بھي پيچھے ہٹنے والا نہيں ہے - انہوں نے کہا کہ ہم پوري سياسي عزم کے ساتھ ويانا آئے ہيں اور بات چيت نتيجہ خيز بنانا چاہتے ہيں-ايران کي مذاکراتي ٹيم کے سربراہ نے کہا کہ اس تين روزہ بات چيت کا مقصد حتمي راہ حل کا حصول ہے اور ايران پوري نيک نيتي کے ساتھ مذاکرات کو کسي نتيجے تک لے جانے کا خواہاں ہے-ايران کے وزير خارجہ نے يہ بات زور ديکر کہي کہ ايراني عوام کو مغرب پر بالکل اعتماد نہيں ہے اور اس کي وجہ حاليہ چند عشروں کے دوران مغربي ملکوں اور خاص طور پر امريکہ کے اقدامات ہيں- انہوں نے کہا کہ مغرب کو ايران کا اعتماد حاصل کرنے کي کوشش کرنا ہوگي- ايران کے وزيرخارجہ نے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ فريقين حتمي نتيجے کے حصول کے پہلے مرحلے ميں ہيں لہذا اس مرحلے ميں کسي معاہدے کی توقع نہيں رکھني چاہئے- ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان ويانا ميں منگل سے شروع ہونے والے مذاکرات کا مقصد، آئندہ کے مذاکرات کا لائحہ عمل اور واضح فريم ورک تيار کرنا، مذاکرات کے اصولوں کا تعين، اور معاملات کے حل کے طريقہ کار کو طے کرنا ہے، جس کے نتيجے ميں کسي جامع راہ حل کا حصول ممکن ہوسکے-ايران کے پرامن ايٹمي پروگرام کے خلاف مغربي محاذ کي قيادت کرنے والا امريکہ کئي برس کي ہٹ دھرمي اور ايران کے خلاف پابنديوں کے ناکام ہونے کے بعد مذاکرات کي ميز پر آگيا ہے جس نتيجے ميں جنيوا ميں عبوري معاہدے کا حصول ممکن ہوا –البتہ يہ معاہدہ امريکہ کا انتخاب نہيں بلکہ ان حالات کا نتيجہ ہے جن کي وجہ سے امريکہ کے سامنے اس راستے پر قدم رکھنے کے سوا کوئي چارہ نہيں تھا-اس حقيقت کو صدر براک اوباما کے بيانات ميں بخوبي محسوس کيا جاسکتا ہے –انہوں نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ اگر انہيں فيصلے کا يکطرفہ اختيار ہوتا تو وہ ايران کي ايٹمي تنصيبات کے کل پرزے کھول کے لے جاتے-ليکن آج امريکہ ايران کے ساتھ مذاکرات کا ايک فريق ہے جس کا مقصد ايران کے جوہري معاملے کے حل ميں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے-حقيقت يہ ہے کہ مغرب کي جانب سے کھڑي کي جانے والے رکاٹوں کے تناظر ميں کسي ايسےمعاہدے کا حصول انتہائي دشوار ہے جو منصفانہ اور سب کے لئے قابل قبول ہو –ظاہر ہے کہ ايسے معاہدے کے حصول کے لئے مذاکرات کو نتيجہ خيز بنانے کے لئے کافي وقت درکار ہوسکتا ہے –
.......
/169