ابنا: عالمی اردو خبررساں ادارے"نیوزنور"کی پورٹ کے مطابق بغیر کسی شک کے ان لوگوں کے ذہنوں میں جو عام طور پر علاقے کے حالات اور خاص طور پر شام کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ، دہشت گرد گروہ "دولت اسلامی عراق و شام"(داعش )کے بارے میں کہ جو تازہ منظر عام پر آیا ہے کچھ سوالات پائے جاتے ہیں کہ اس کی ماہیت کیا ہے اور مختصر سی مدت میں وہ اتنا مشہور کیسے ہو گیا ہے؟۔ایرانی خبررساں ادارے "فارس نیوز" کے نامہ نگار نے اس سلسلے میں عرقی حفاظتی امور کے ماہر احمد الشریفی سے اس سلسلے میں گفتگو کی اور اس سلسلے میں ان کی رائے معلوم کی ہے جس کا ترجمہ نیوزنور کے قارئین کے نذر کیا جا رہا ہے۔الشریفی کا ماننا ہے کہ دہشت گرد گروہ اس وقت شام میں وجود میں آیا کہ جب امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کاروائی نہیں کی دوسرے لفظوں میں جب واشنگٹن کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کرنے سے نہ صرف شام میں بلکہ پورے خطہ میں امریکہ کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو گا تو اس نے دوسری چال اختیار کی ۔حفاظتی امور کا یہ کار شناس کہتا ہے :شام کے خلاف امریکہ کے فوجی کاروائی کرنے سے انکار نے شام کے اصلی دشمن کہ جس میں سر فہرست صہیونی حکومت ہے کو مجبور کیا تا کہ نئے طریقہ کار کو شام کے میدان میں اختیار کرے یہی وہ زمانہ تھا کہ جب ہم نے دیکھا کہ داعش نے شام میں اپنے قدم جما دیے ہیں۔اس نےمزید کہا :اس دعوے کے اثبات کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نکتہ کی طرف اشارہ کر دیں کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی فوجوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے دوران ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ ان دہشت گردوں کے لڑنے کا طریقہ اسرائیلی کمانڈو جیساہے اور ان کے ہتھیار اوزی ہیں جو اسرائیلیوں کے اہم ترین ہتھیار ہیں جبکہ ان کی گولیاں اسرائیل کی بنی ہوئی ہیں اور ان کا گروہ دہشت گرد گروہ داعش ہے ۔الشریفی نے یاد دلایا :اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس خطے اور عراق میں بہت خطرناک طاقتوں کے مقابلے پر ہیں اسی لیے ہمیں تمام امور کو حکمت کے ساتھ چلانے اور انہیں صاحبان نظر اور کار شناس افراد کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ میدان میں آئیں اور ان امور کی باگ ڈوراپنے ہاتھ میں لیں ۔اس نے مزید کہا: عراق کی فوج جب جنگلوں میں داعش کے خلاف برسر پیکار تھی تو اس نے ان کو بھاری نقصان پہونچایا اس وجہ سے داعش نے مزید نقصان سے بچنے کی خاطر شہر کا رخ کیا تا کہ عراقی فوج کو شہر کے اندر کھینچ سکے اور اس جنگ کو گروہ اور قبیلے کی جنگ کا روپ دے ۔ایسے حالات میں فوج کے سامنے صرف دو راستے تھے ۔ ایک یہ کہ شہر میں داخل ہو جائے کہ اس صورت میں عام آدمیوں کی جانیں جانے کا خطرہ تھا اور اگر شہر میں داخل نہیں ہوتی ہے تو اس کو پہلے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا ۔ الشریفی نے عراق میں بیداری کمیٹیوں کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سست رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:ان کمیٹیوں نے ۳۰ ہزار سے زیادہ شغل ایجاد کیے ہیں اور حکومت سے تنخواہوں کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ان کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا ہے۔اس نے کہا: عراق میں بالکل ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بعض لوگوں کی یہ کوشش ہے کہ اس ملک کی سیاست اور اس کے حفاظتی اور فوجی اداروںکو نشانہ بنائیں ۔وہ نہیں چاہتے کہ عراق کے پاس ایک طاقتور فوج ہوَ یہی وجہ ہے کہ اس چال کا توڑ کرنے کے لیے ایک آگاہ اور با تدبیر حکومت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تا کہ وہ ملک میں پہلے سے زیادہ خونریزی کو روکے اور سیاسی رفتار کو آگاہی اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھائے۔الشریفی نے آگے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا:جب ہم فوج کی ٹکڑیوں کو دہشت گرد گروہوں کے ساتھ لڑنے کے لیے بحران زدہ علاقوں میں بھیجتے ہیں ۔ تو ہمیں ان کی سیاسی لازمی حمایت بھی کرنا چاہیے نہ یہ کہ ان کو بغیر حمایت کے بحران زدہ علاقوں میں بھیج دیں ۔عراقی حفاظتی امور کے اس کار شناس نے عراق کے مغربی مناطق کے بارے میں کہا :عراق کی حکومت نے مغربی علاقوں کے موجودہ حالات اور ان مشقوں کے بارے میں جو وہ اس شہر کے علاقوں پر فوج کے احتمالی حملے کے سلسلے میں کرنے والی ہے حساس نوعیت کی غلطی کی ہے چونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس اور طریقے بھی تھے مثلا چند سو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ ۳۲ ہزارحفاظتی فوجیوں کو استعمال کرنے کے بجائے علاقائی طاقتوں سے کام لے سکتی تھی۔الشریفی نے یہ سوال اٹھایا کہ ۳۲ ہزار حفاظتی فوجی چند سو دہشت گردوں کے مقابلے میں کہ جو باہر سے صوبے کے اندر آئے ہیں ہار کا سامنا کیوں کریں ؟اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق کی حفاظتی فوجوں میں اختلاف پائے جاتے ہیں جو فوج کے رول کی کمزوری کا باعث بنے ہیں اور اس موضوع کے بارے میں دقت کے ساتھ چھان بین ہو نا چاہیے ۔الانبار کے اس منصوبے کے بارے میں کہ وہاں قبائل کے فرزندوں علاقے کے لوگوں کو فوج اور پولیس میں بھرتی کیا جائے الشریفی نے کہا:طے پایا ہے کہ ان ۳۲ ہزار فوجیوں کے ساتھ صوبے سے ۵ ہزار افراد اور شامل کیے جائیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان افراد سے کوئی فائدہ ہو گاکیا یہ لوگ سالم اور قابل اعتماد ہیں یہ افراد نوکر تو نہیں ہیں اور ان کا قصد فوج میں نفوذ پیدا کرنا تو نہیں ہے یہ وہ چیزیں ہیں کہ ان افراد کو بھرتی کرنے میں جن پر دھیان دینا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
عراقی حفاظتی امور کے ماہر کا تجزیہ:
شام پر امریکی حملہ سے ناامیدی کے بعد"داعش"کے قیام کے علل و اسباب
15 فروری 2014 - 20:30
News ID: 506469
عراق کے حفاظتی امور کے ماہر کا یہ عقیدہ ہے کہ داعش کا وجود امریکہ کے شام پر فوجی حملے سے صرف نظر کرنے کا نتیجہ ہے۔