ابنا: انہوں نے کہا کہ برطانیہ ان عورتوں اور بچیوں کو جنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا خطرہ ہے کہ ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، وہ افراد جن پر تشدد کیا گیا اور بزرگ اور اپاہج افراد کو عارضی پناہ دے گا۔ برطانوی حکومت توقع کر رہی ہے کہ ایسے افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہوگی تاہم اس نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔ برطانیہ کا یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پروگرام سے الگ ہے جس کے تحت جرمنی دس ہزار جبکہ فرانس 500 شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے آمادہ ہے۔ نک کلیگ نے کہا: برطانیہ نے امداد کے لیے 60 کروڑ ڈالر دیے ہیں اور عالمی برادری میں امداد دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن شام کے بحران کے باعث لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہےاور اسی لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
.......
/169