ابنا: علامہ ہاشم موسوی نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بلتستان کے عوام کا لواحقین شہداء کی نمائندگی کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کیساتھ مذاکرات کے بعد لواحقین شہداء کے اطمینان کے بعد علامہ ناصر عباس جعفری نے ملک بھر میں جاری دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، آپ بھی دھرنے کو ختم کر دیں۔ مجھے احساس ہے کہ اسوقت اسکردو میں کتنی سردی اور مشکلات ہیں، لیکن آپ کی غیرت دینی نے اس بات پر مجبور کیا کہ کوئٹہ کے لواحقین کے ساتھ دھرنا جاری رکھیں، خدا آپ دوستوں کو سلامت رکھے۔ ملک بھر میں جاری دھرنوں اور مومنین کے جذبہ ایمانی نے ثابت کر دیا کہ ملّت تشیع ان شہداء کے خون کے طفیل منّظم اور بیدار ہوچکی ہے، اب کسی یزید کی جرائت نہیں ہوگی کہ ہمارے حقوق کو پائمال کرے۔ آپ سب نے ثابت کر دیا کہ ملک کے چاہے جس کونے میں ہوں ملت تشیع جسد واحد ہے، ایک ہی راستے کے راہرو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر میں (اگرچہ میری کوئی حیثیت نہیں) آپ سب کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ آپ نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
.......
/169