22 جنوری 2014 - 20:30
پاکستان،مستونگ حملے کے خلاف جنازوں کے ساتھ جاری دھرنا

پاکستان میں سانحہ مستونگ کے خلاف صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علمدار روڈ پر مسلمان برادری کی جانب سے سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے جنازوں کے ساتھ دھرنا جاری ہے۔

ابنا: پاکستان میں سانحہ مستونگ کے خلاف صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علمدار روڈ پر مسلمان برادری کی جانب سے سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے جنازوں کے ساتھ دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے قاتلوں کی گرفتاری اور ٹارگٹڈ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبے کی بلوچستان شیعہ کانفرنس نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف موٴثر کارروائی تک دھرنا نہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔سانحہ مستونگ کے خلاف شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور لواحقین میتوں کے ہمراہ کل دس بجے صبح علمدار روڈ کے شہدا چوک پر جمع ہوئے اور دھرنا دیا۔سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے 28 افراد کے جنازے رکھ کر ان کے لواحقین اور برادی کے افراد سخت سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ دوسری جانب بلوچستان شیعہ کانفرنس کے قائم مقام صدر سید مسرت حسین نے کہا ہے کہ سانحہ مستونگ پر وفاقی حکومت کے ردعمل کاانتظار ہے، ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف نتیجہ خیز آپریشن ہوگا تو ہی دھرناختم ہوگا۔علاوہ ازیں سانحہ مستونگ کے خلاف کوئٹہ، لاہور،ملتان، حیدرآباد اور کراچی میں بھی دھرنے جاری ہیں۔ کراچی میں نمائش چورنگی، تین تلوار، انچولی و دیگر علاقوں میں دھرنا جاری ہے۔احتجاج میں شامل افراد کا کہناہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔لاہورمیں بھی مجلس وحدت مسلمین کا دھرنا جاری ہے۔ گورنرہاوٴس کے سامنے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماوٴں کا کہنا تھا کہ جب تک کوئٹہ میں دھرنا ختم نہیں ہوتا وہ بھی احتجاج ختم نہیں کریں گے۔سانحہ مستونگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے کارکن فیض آباد پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ملتان میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے امام بارگاہ ستریوٹ سے ریلی نکالی گئی جس نے نواں چوک پر دھرنے کی شکل اختیار کرلی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم کئے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ حیدرآباد بائی پاس قومی شاہراہ پر، دادومیں انڈس ہائی وے پر اور نواب شاہ میں شیعہ علما کونسل کی جانب سے پریس کلب کے سامنے بھی دھرنا جاری ہے جبکہ جیکب آباد میں قومی شاہراہ، شکارپور میں لکھی درچوک میں لوگ احتجاج کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲