ابنا: شام کے صدر بشار اسد نے آج فرانس پریس سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ، جنیوا دو کانفرنس کا اصلی مقصد ہونا چاہئے اور دہشت گردی کے مقابلے میں شام کی شکست، مشرق وسطی کے علاقے میں خلل اور فساد واقع ہونے کے مترادف ہوگی۔ شام کے صدر نے مزید کہا کہ تمام ویڈیو تصاویر سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام میں دہشت گرد ، جنگي جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس وقت شام کی حکومت، مخالفین سے نہیں لڑ رہی ہے بلکہ تکفیری دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ بشار اسد نے شام میں موجود دہشت گردوں کی بعض عرب ملکوں کی جانب سے جاری حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانس بھی قطر اور سعودی عرب کی مانند شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام کے صدارتی انتخابات میں ان کے نامزد امیدوار ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہا کہ مغرب کے خفیہ ادارے شام کی حکومت کے ساتھ تعاون کے خواہاں ہیں۔
.......
/169