ابنا: کابل ميں افغان صدر کے ترجمان ايمل فيضي نے نامہ نگاروں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ امريکہ ساتھ سيکورٹي معاہدے کے بارے ميں صدر حامدکرزئي کے موقف ميں کوئي تبديلي نہيں آئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کرزئي پہلے ہي واضح کرچکے ہيں کہ افغانستان کابل واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر اسي صورت ميں دستخط کرے گا جب ان کي پيش کردہ شرائط قبول کرلي جائيں۔ افغان صدر کے ترجمان کا يہ بيان ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے جب امريکي نائب وزير خارجہ کے حوالے سے يہ خبر سامنے آئي ہے کہ امريکہ اور افغانستان سيکورٹي معاہدے پر دستخط کرنے والے ہيں۔واضح رہے کہ افغانستان نے کابل واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر دستخط کو رہائشي علاقوں پر غير ملکي فوج کے حملے بند کرن، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز، افغان فوج کو جديد سازو سامان کي فراہمي اور گوانتاناموں جيل ميں بند افغان قيديوں کي رہائي کے ساتھ مشروط کرديا ہے۔حکومت امريکہ، افغان صدر پر مسلسل دباؤ ڈال رہي ہے کہ وہ پانچ اپريل کو ہونے والے صدارتي انتخابات سے پہلے کابل - واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر دستخط کرديں۔ امريکہ نےافغانستان کو دھمکي دي ہے کہ اگر اس نے کابل - واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر دستخط نہ کيے تو افغانستان کو ملنے والي امريکي امداد بند کردي جائےگي۔ افغان صدر نے امريکہ کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر آنے والا صدر ہي دستخط کرےگا۔
.......
/169