13 جنوری 2014 - 20:30
ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی (ص) عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

گلی گلی محافل درود و سلام، فضائیں ’’یارسول اللہ‘‘ کی صداؤں سے معطر۔ وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا۔

ابنا: عاشقان رسول (ص) کی جانب سے ملک بھر میں گذشتہ روز نماز مغرب کے ساتھ ہی خاتم النبین، سید المرسلین آقائے دوجہاں (ص) کے میلاد کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں، ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر، قصبے اور گاؤں کی گلیاں، کوچے، بازار اور چوراہوں پر سبز پرچموں کی بہار ہے جبکہ اہم عمارات، مارکیٹوں، بازاروں اور چوراہوں کو برقی قمقموں اور آرائشی سامان کے ذریعے انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں میں چراغاں کیا گیا ہے، مساجد میں رسول اللہ (ص) کی سیرت مبارکہ اور سنت رسول (ص) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ کئی مقامات پر محافل نعت و سلام کی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں جس میں رسول اللہ (ص) کی شان میں نذرانہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے جا رہے ہیں، بعض مقامات پر رسول اللہ (ص) کے موئے مبارک سمیت دیگر متبرک اشیاء کے دیدار کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر لنگر اور شربت کی تقسیم بھی جاری ہے اور ان تمام تقاریب کا سلسلہ آج بھی نماز مغرب تک جاری رہے گا۔

وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا اور لاکھوں فرزندان توحید نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد بارگاہ رب العزت میں آمنہ کے لعل (ص) کے صدقے ملک کی بقا، سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے لئے دعائیں مانگیں۔ اس کے علاوہ شہر شہر، نگر نگر ہر جگہ سرور کونین (ص) کے چاہنے والوں کی جانب سے جلوس نکالے جا رہے ہیں جس میں ہر عمر کے بچے، بوڑھے اور جوان شریک ہیں اور اپنے آقا (ص) کے دنیا میں آنے کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نبی آخرالزماں (ص) کے چاہنے والوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے جہاں مختلف علاقوں میں سیکڑوں جلوس نکالے جائیں گے تاہم مرکزی جلوس شہید مسجد کھارادر سے برآمد ہوگا، جلوس کے راستوں پر جگہ جگہ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے تہنیتی اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ اس موقع پر امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی الرٹ کے مطابق کالعدم تنظیم کے دہشت گرد عید میلاد النبی کے جلوسوں پر خودکش حملے کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں دہشت گرد ممکنہ طور پر بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کاروائی کر سکتے ہیں۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے جڑواں شہروں کی پولیس اور انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے جس کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی ریڈالرٹ کر دی گئی ہے۔ کراچی میں بھی کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس کے ساتھ رینجرز کے خصوصی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ اہم مقامات کی خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے، بلند و بالا عمارات پر خصوصی نشانہ باز تعینات کیے گے  ہیں جبکہ شہر کے تمام اسپتالوں میں بھی اینرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔

داتا کی نگری لاہور میں بھی عید میلادالنبی (ص) کے موقع پر سکیورٹی پلان تشکیل دے گیا ہے، اہم ہوٹلوں، سرائے اور بس اڈوں کی چیکنگ جاری ہے جبکہ 10 ہزار پولیس اہل کار اور 4 ہزار رضاکار جلوسوں کی نگرانی کریں گے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

.......

/169