ابنا: جان مککین اور لینڈسی گراہم امریکہ کے دو جمہوری خواہ سینیٹرز نے امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کو عراق کے حالیہ حوادث اور اس ملک کے کچھ حصوں منجملہ شہر فلوجہ پر القاعدہ کے قبضے کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ میکین اور گراہم نے ایک مشترکہ بیان میں کھل کر کہا :حالانکہ امریکہ اس اسٹریٹیجیک حادثے کے ذمہ دار ہیں امریکہ کی حکومت بھی اس حادثے میں جو اس کا حصہ ہے اس سے راہ فرار نہیں اختیار کر سکتی حالانکہ اوبامہ نے اپنی تمام فوجوں کو عراق سے واپس بلالیا ہے.
حالانکہ عراق کی فوج نے زبردست کوشش کی تھی کے فلوجہ پر دوبارہ اپنا قبضہ بحال کرے جمعہ کی شب جھڑپوں میں آٹھ فوجی مارے گئے اور کئی دوسرے افراد زخمی ہوئے ۔ امریکہ کے دوجمہوری خواہ نمائندوں نے آگے چل کر تصریح کی :حکومت امریکہ کی یہ کہانی کہ عراق کی سیاسی حکومت ۲۰۱۱ کے بعد امریکی فوجیوں کے عراق میں مستقر رہنے کی مخالف تھی، بالکل غلط تھی ۔ میکین نے مزید کہا :ایک ہزار بہادر امریکی کہ جنہوں نے جنگ کی ان کا خون بہہ گیا اور انہوں نے اپنے دوست کھو دئیے، اس نے یہ بھی کہا کہ عراق میں امریکی حکومت کی کمزوری اس کی شکست خوردہ پالیسی کے ساتھ شام میں اس کے ہمراہ ہے اور تاکید کی کہ شام کے حالات علاقائی جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے ہیں اور اس وقت وہ امریکی قومی مفادات کے لئے خطرہ بن چکے ہیں ۔
ان جمہوری خواہ سینیٹ کے نمائندوں نے اوبامہ سے مطالبہ کیا کے وہ عراق کے تجربے سے سبق حاصل کرے.
.......
/169