2 جنوری 2014 - 20:30
رسول اللہ الاعظم(ص) کے یوم وصال کےموقع پر شیعیان بلاد الحرمین عزاداری + تصاویر

منطقۃ الشرقیہ کے شہر القطیف میں شیعیان آل رسول(ص) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے یوم وصال پر عزاداری کی مجالس بپا کیں اور جلوس برآمد کئے۔ عزاداروں نے آل سعود کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں سمیت اسیروں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور اپنے قائدین ـ بالخصوص علمائے دین ـ کی تصویریں اٹھا کر ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خواتین، مرد، بچے اور بوڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے یوم وصال کے موقع قطیف کی سڑکوں پر آئے اور خدا کے آخری پیغمبر(ص) سے اپنی عقیدت اور آپ(ص) کے وصال کے موقع پر عزاداری کی اور ماتم کیا۔  سڑکوں کے دونوں کناروں پر چھوٹے چھوٹے خیمے نصب کئے گئے تھے جہاں عزاداروں کی ضروریات پوری کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا اور انہیں اشیائے خورد و نوش پیش کی جارہی تھیں اور سبیلوں پر پیاسے عزاداران رسول اللہ(ص) کو پانی پیش کیاجارہا تھا۔ شیعہ عزاداروں نے اس سال سیاہ پرچموں اور بینروں کے ساتھ ساتھ شہیدوں اور اسیروں کی تصویریں بھی اٹھائی ہوئی تھیں جنہیں ملک میں سیاسی اصلاحات اور شہریوں کو مساوی شہری حقوق نیز شہری آزادی کے لئے ہونے والے احتجاجی جلوسوں کے دوران شہید اور اسیر کیا گیا ہے اور انہیں سعودی سیکورٹی فورسز نے اپنے ستم کا نشانہ بنایا ہے۔  اسیروں کی تصاویر میں مجاہد عالم دین آیت اللہ شیخ نمر آل نمر کی تصویر بھی دکھائی دیتی تھی جنہیں گذشتہ سال گولی مارنے کے بعد جیل منتقل کیا گیا ہے اور انہیں کسی قسم کے علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ سے گولی نہیں نکالی جاسکی ہے اور وہ ای ٹانگ سے معذور ہوچکے ہیں۔ عزاداری کے اس جلوس کے دوران ایک عزادار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں اشعار پڑھے اور شعر کی زبان میں الشرقیہ کے سیاسی اور سماجی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی اسیروں اور شہداء اور بالخصوص کم سن شہیدہ تُقیٰ ماجد الجشی کی طرف اشارہ کیا جو اربعین امام حسین(ع) کے ایام میں عراق میں سامرا سے لوٹتے ہوئے تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے جام شہادت نوش کر چکی تھیں۔ جن اسیروں کی تصویریں عزاداروں نے اٹھائی ہوئی تھیں ان میں آیت اللہ شیخ نمر آل نمر اور شیخ توفیق العام اور سترہ سال سے بغیر مقدمہ چلائے قید تنہائی میں رکھے جانے والے 9 سیاسی اسیر شام تھے۔ عزاداروں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر آل سعود سے شہداء کے قاتلوں سے قصاص لینے اور عوام کے جائز حقوق دینے کے مطالبات درج تھے۔ یہ تیسرا سال ہے کہ قطیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے یوم وصال پر وسیع مراسمات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭