اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی جریدے المنار نے ایک امریکی سفارتکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ خاندان آل سعود کے درمیان اقتدار کے لئے محاذ آرائیوں اور مورچہ بندیوں کے سائے میں سرزمین عرب متعدد امارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں کئی امارتیں ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہونگی اور ہر حکمران نے اپنے لئے خاص سیکورٹی اور عسکری حلقہ قائم کیا ہوا۔ اس سفارتکار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کا ایک اعلی سفارتی ـ سیکورٹی وفد سعودی عرب کے خفیہ دورے پر ریاض پہنچا ہے جو سعودی شہزادوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب میں حالات خراب ہونے کا راستہ روکنے کی کوشش کرے گا کیونکہ متنازعہ دھڑوں کے درمیان اس طرح کے مسائل اگر شروع ہوئے تو یہ ایک ایسی جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں جو آل سعود کی حکومت کو نگل لے گی۔ مذکور سفارتکار نے اس بات کی بھی تائید کی ہے کہ آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حالت نازک ہے اور یہی مسئلہ امریکہ کی فوری مداخلت کا محرک ہے تاکہ اس ملک کے آنے والے حالات پر قریب سے نظر رکھے، اقتدار کے لئے خاندانی لڑائیوں کا سد باب کرنے کی کوشش کرے، موروثی اقتدار کی منتقلی کے لئے روایتی طور طریقوں اور معیاروں کا از سر نو تعین کرے تاکہ نئی حکومت امریکہ کے نئے معیاروں کے مطابق بر سر اقتدار آسکے۔ اس سفارتکار نے کہا: سعودی عرب کے حالات ناگفتہ بہ ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کو بہت زیادہ تشویش ہے کیونکہ سعودی حکمران مزید عرب اور مسلمان قوموں کے نزدیک قابل احترام نہیں رہ سکے ہیں کیونکہ انھوں نے عربوں اور فلسطینیوں کے مشن کو پامال کرکے یہودی ریاست کے ساتھ اعلانیہ تعلقات قائم کئے ہیں اور اب تو وہ بعض مسلم ممالک کے خلاف اسرائیل کے ساتھ خفیہ و اعلانیہ عسکری و انٹیلجنس تعاون تک کررہے ہیں۔ اس امریکی سفارتکار نے حتی یہ حقیقت بھی صیغہ راز میں نہ رکھی کہ سعودی خاندان اور سرزمین عرب پر بسنے والے عوام سعودی خاندان کے برسر اقتدار دھڑے کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں سے نالاں ہیں جس کی باگ ڈور بندر بن سلطان اور اس کے بھائی سلمان بن سلطان نیز وزیر خارجہ سعود الفیصل کے ہاتھ میں ہے۔ المنار کے واشنگٹن میں مقیم نمائندے نے آنے والے ایام کو سعودی خاندان کے لئے فیصلہ کن اور انتہائی خطرناک قرار دیا اور لکھا کہ امریکہ کے کئی سیاستدانوں اور سیکورٹی اداروں کے سربراہوں کا ایک وفد عجلت سے واشنگٹن کو ترک کرکے ریاض پہنچ گیا ہے کیونکہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اگلے چند دنوں میں سعودی عرب کے بڑے اور اہم شہروں میں نہایت خطرناک تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ جریدے نے لکھا: سنجیدہ انتباہات موصول ہوئے ہیں کہ سعودی عرب میں خطرناک صورت حال نمودار ہوسکتی ہے چنانچہ سعودی حکومت نے بھی اہم شہروں میں ریڈ الرٹ دی ہے۔ امریکی سفارتکار نے کہا ہے کہ سعودی حکمران اپنی قوم اور عرب دنیا میں پسندیدہ عناصر نہیں سمجھے جاتے کیونکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کی ہے اور اب تو وہ اسرائیل کے ساتھ حلیف بننے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
2 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 491927
فلسطینی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ 90 سالہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حالت نازک ہے، ملک کے مخالف علاقوں میں ریڈ الرٹ دی گئی ہے اور امریکہ کا ایک سیکورٹی ـ سفارتی وفد فوری طور دارالحکومت ریاض پہنچ گیا ہے/ اگلے چند روز بہت اہم ہیں۔