1 جنوری 2014 - 20:30
ھندہ جگر خوار کا بیٹا حزب اللہ کے کمانڈر کا قاتل + تصاویر

ابو صقار نامی دھشتگرد جس نے کچھ ماہ قبل ایک شامی سپاہی کا جگر نکال کر چبایا تھا نے حزب اللہ کے ایک کمانڈر سمیت ۲۵ مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کچھ مہینے قبل شام میں ایک تکفیری دھشتگرد نے کیمرے کے سامنے ایک شامی سپاہی کا جگر نکال کر دانتوں میں چبایا تھا اور اس نے اپنے اس عمل سے بشار الاسد کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمہاری فوج کے ایسے ہی کلیجے چبائین گے۔

ابو صقار نامی دھشتگرد کے اس حیوانی رویے کے بعد میڈیا خاص طور پر ایرانی اخباروں میں اسے ھندہ جگر خوار کے بیٹے کا لقب مل گیا۔ابو صقار نے اپنے اس بھیانک عمل کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ اگر شام میں بشار الاسد حکومت سے درکنار نہ ہوا تو شام کی ساری قوم ابوصقار ہو جائے گی۔

اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے موبائل میں بچوں کے قتل عام، عورتوں کے ساتھ ناجائز سلوک، مُردوں کے جلائےجانے، زندہ لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جانے اور سر کاٹے جانے کی ویڈیو کلپیں موجود ہیں۔یہ جگر خوار شخص جو دھشتگرد ٹولے ’’عمر فاروق‘‘ کے سرغنوں میں سے ہے نے حالیہ دنوں میں شامی حکومت کی مخالف سائٹوں میں ایک ویڈیو کلیپ کے اندر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صوبہ حمص کے شہر القصیر کے علاقے ’’تل النبی مندو‘‘ میں حزب اللہ کے ۲۵ مجاہدوں کو شہید کیا ہے کہ جن میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر شہید حسین صلاح حبیب بھی شامل ہیں۔

اس شہید کی شائع شدہ تصاویر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکفیری دھشتگردوں کے ہاتھوں شدید شکنجوں کا شکار ہوئے ہیں اس شہید کے چہرے سمیت بدن پر چاقو سے کاٹے جانے کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔اس شہید کا جسد ایک ہفتہ پہلے تل النبی مندو گاوں سے ملا اور اسے لبنان منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق شہید حاج حسین صلاح حبیب کا جسد گزشتہ روز لبنان کے شہر بعلبک میں مقاومت کے طرفداروں اور اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کے ذریعے تشییع جنازہ کیے جانے کے بعد دفن کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲