ابنا: ذرائع کے مطابق عراق کی وازرت داخلہ و دفاع اور صحت نے آج ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے بعد سنہ دو ہزار تیرہ، عراق کا خونریز ترین سال شمار ہوتا ہے جس میں مسلح افراد کے دہشتگردانہ حملوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں سات ہزار ایک سو پینتالیس افراد مارے گئے جبکہ سنہ دو ہزار آٹھ میں اس ملک میں مارے جانے والے افراد کی تعداد آٹھ ہزار نو سو پنچانوے رہی تھی۔عراق میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے نے مارے جانے والے افراد کی اس تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں تشدد کا سختی سے مقابلہ کریں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عراق میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آنے کے موقع پر اس ملک میں دہشتگردانہ حملوں میں کافی اضافہ ہوگيا ہے۔
.......
/169