17 دسمبر 2013 - 20:30
شام: دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا

نام نہاد "فرینڈز آف سیریا" کے درمیان شام کے حوالے سے شدید اختلافات رونما ہوئے ہیں اور اس اتحاد کو اپنی پسند کے دہشت گردوں کو منظم کرنے میں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں جیش الاسلام نامی سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم کی طرف سے شام کے شمال میں ہونے والی کاروائیوں اور فری سیرین آرمی کے ٹھکانوں اور اس تنظیم کے لئے بھجوائے جانے والے جدید امریکی ہتھیاروں پر اس تنظیم کے قبضے، فری سیرین آرمی کے کمانڈر سلیم ادریس کے قطر بھاگ جانے اور امریکی و مغربی حمایت یافتہ دھڑے کی شدید کمزوری کی بنا پر امریکہ ـ سعودی ـ ترکی ـ قطر اتحاد کو شدید دھچکا لگا ہے۔

1

واضح رہے کہ جیش الاسلامی نامی دہشت گرد تنظیم نے ترک سرحد پر باب الہوی کے سرحدی علاقے پر قبضہ کرکے وہاں موجود نام نہاد آزاد شامی فوج کی بساط لپیٹ لی اور اس تنظيم کے لئے امریکہ سے بھجوائے گئے جدید ترین ہتھیاروں پر سعودی حمایت یافتہ جیش الاسلام کا قبضہ ہوا۔ سرحد پر فری سیرین آرمی کے گوداموں میں جدید ترین ہتھیاروں، مواصلات آلات و اوزار، اور جدید ترین گاڑیاں اور ہتھیاروں کو مؤثر بنانے والے آلات اور بعض ہتھیار موجود تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قطر نے بھی جیش الاسلام کی حمایت کی ہے۔ اور یہ موضوع اس وقت امریکہ اور سعودی نیز امریکہ اور قطر کے درمیان اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔ بعض فرانسیسی ذرائع نے لبنانی اخبار "السفیر" کو بتایا کہ "فرینڈز آف سیریا" نامی "چھوٹے سے سیل" کے رکن ممالک نے مجبور ہوکر گذشتہ جمعہ کے دن لندن میں وزارت ہائے خارجہ کے ڈائریکٹروں کی سطح پرایک اجلاس منعقد کیا اور شام کے شمال میں پیش آنے والے واقعے اور فری سیرین آرمی کے باقیماندہ عناصر پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔یہ اجلاس قطریوں اور مغربیوں کے درمیان شدید اور بہت گرم بحث پر منتج ہوا جس سے مذکورہ تنظيم کے مستقبل اور شام کے مستقبل میں اس کے کردار کی خاکہ کشی ممکن ہوئی اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا مستقبل میں اس گروہ کا کوئی خاص کردار نہیں ہوگا! یعنی امریکہ اور ترکی نیز مغربی ممالک کی حمایت یافتہ تنظیم کا مستقبل تاریک ہے گوکہ اسرائیل اور ترکی پس پردہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے اور قطر کی حمایت یافتہ تنظیموں کے ساتھ بھی اس کے قریبی تعلقات اور حال ہی میں عدرا نامی شہر میں عوام کی گردن زنی کے طوفان بدتمیزی میں بھی ترکی کے ہاتھ صاف طور پر دکھائے دیئے ہیں جبکہ عدرا کو القاعدہ سے وابستہ تنظیم جبہۃالنصرہ نے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ شام میں امریکی سفیر نے الزام لگایا کہ مذکورہ بالا کاروائی میں قطریوں نے فری سیرین آرمی کے ٹھکانوں پر حملے میں احرار الشام اور التوحید بریگیڈ کو امداد فراہم کی تھی اور اس کو تباہ کرنے میں تعاون کیا تھا۔ واضح رہے کہ فری سیرین ارمی امریکہ اور یورپ نے تشکیل دی تھی اور اس کو منظم کرنے کے لئے بڑی سرمایہ کاری کی تھی اور فری سیرین آرمی امریکیوں کو شام کی جنگی صورت حال سے مسلسل آگاہ کئے رکھتی تھی گوکہ یہ تنظیم بھی انسانیت دشمنی اور بچوں اور عورتوں کے قتل عام اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے سلسلے میں تکفیری ـ وہابی تنظیموں سے کم نہ تھی۔ امریکہ اور یورپ نے اس تنظیم کے لئے ایک جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ مذکورہ فرانسیسی ذریعے نے السفیر کو بتایا کہ قطر کے مندوب نے اس اجلاس میں نام نہاد جہادی تنظیموں کی طرف سے فری سیرین آرمی کے خلاف ہونے والی کاروائی کو درست قرار دیا کیونکہ اس کے بقول فری سیرین آرمی کے خلاف سرگرم تنظیموں کا کردار زيادہ مؤثر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قطریوں نیز سعودیوں کی پالیسیاں مغرب کی پالیسی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں کیونکہ مغرب کی حکمت عملی کی بنیاد فری سیرین آرمی کی حمایت پر استوار ہے جو مغرب کے بقول ایک اعتدال پسند گروپ ہے۔ فرانسیسی ذریعے نے مزید بتایا: شام میں امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کو اجلاس میں شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے قطر کو دوہری پالیسیاں اختیار کرنے کا طعنہ دیا حالانکہ قطر کا دعوی ہے کہ وہ امریکہ کا حلیف اور اتحادی ہے!فورڈ نے کہا: قطر نے شام میں ہمیں بائی پاس کیا ہے اور وہ فری سیرین آرمی کے خلاف کاروائی کرنے والی تنظیموں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ جبکہ اجلاس میں شریک فرانسیسیوں نے قطر پر غداری اور خیانت کا الزام لگایا کیونکہ قطری حکام نے قبل ازیں امریکہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ شام میں فری سیرین آرمی کی تشکیل نو اور اس کو دوبارہ ہمآہنگ اور متحد کرنے میں پورا پورا تعاون کریں گے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ شام کے خلاف بننے والا مغربی ـ عربی اتحاد دھماکے سے پھٹنے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ شام میں کچھ کررہے ہيں اور قطر اور سعودی عرب کچھ اور کررہے ہیں؛ وہ اعلانیہ طور پر نام نہاد جہادی گروپوں کی عملی حمایت کررہے ہیں؛ سعودی عرب حالات کو اپنے قابو میں لانا چاہتا ہے اور مخالفین کے ہتھیاروں کو ایک جھنڈے تلے لانا چاہتا ہے اور مستقبل میں شام کے خلاف ایک طویل جنگ کے میدان میں داخل ہوجائے۔ قطر بیرون ملک مقیم شام کے نام نہاد "قومی اتحاد" میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے کے درپے ہے کیونکہ یہ اتحاد بھی سعودیوں کے زیر اثر آچکا ہے۔ قطر شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد تنظیموں کے اندر بھی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ مسلح تنظیموں کو ہتھیار اور مالی امداد کی فراہمی دوباہ شروع کرنا چاہتا ہے تاکہ داعش اور القاعدہ کے درمیان تقابل کی صورت میں بہتر پوزیشن حاصل کرے اور سیاسی و سیکورٹی فوائد حاصل کرے۔ دوسری طرف سے مغربی نمائندوں نے بھی انطاکیہ کے وار رومز میں بیٹھ کر شام کے اندر مسلح گروہوں اور القاعدہ اور اس سے وابستہ نام نہاد تنظیموں کی کارکردگی دیکھ کر ان کے خلاف حکومت شام کے ساتھ تعاون کرنا شروع کیا ہے اور ان گروپوں کے بارے ميں خاص خاص معلومات حکومت شام کو فراہم کرنے لگے ہیں اور ان معلومات کی روشنی میں حکومت شام نے دہشت گردوں کو حالیہ ایام میں شدید ترین نقصانات پہنچائے ہیں اور شامی افواج کی کامیاب کاروائیاں دمشق کے نواح، دیر الزور، درعا، اور حمص سمیت شمالی اور مشرقی صوبوں میں جاری ہیں جن کو تقریبا 600000 عوامی رضاکار فورس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

تفصیلی خبروں کے لئے کلک کریں:

دیر الزور میں فوجی کاروائی/ مغربی عرب اتحاد ختم ہورہا ہے/ عدرا میں کاروائی کی تفصیل