15 دسمبر 2013 - 20:30
وزیر خارجہ: ایران ایٹمی معاملے میں جامع اور حتمی معاہدے کا خواہاں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاملےمیں جامع اور حتمی معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ابنا: وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ایران، مذاکرات جاری رکھے گا اور گذشتہ ہفتے جو رکاوٹ پیش آئي تھی اس کے باوجود ایران پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھےگا۔ واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اس بات کو ٹابت کیا ہے کہ اس کا پرگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور وہ آئندہ بھی جامع معاہدے میں اپنے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کو ثابت کردے گا۔ انہوں نے اراک کے ہیوی واٹر ایٹمی پلانٹ کے بارے میں کہا کہ اتنی آسانی سے بیس سال قبل لوٹا نہیں جاسکتا اور ایران سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس پروجیکٹ سے دستبردار ہوجائے جس میں انسانی اور مادی وسائل کی عظیم سرمایہ کاری کی گئي ہے تاہم ایسے راستے موجود ہیں جن سے یہ اطمینان حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اراک کا ہیوی واٹر ری ایکٹر مکمل طرح سے پرامن مقاصد کے لئے کام کرتا رہے گا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اوباما نے اسرائيل کے دباؤ میں آکر کہا ہے کہ ہر وہ معاہدہ جس کی روسے ایران کا ایٹمی پروگرام رول بیک نہ ہو اور ایسی ضمانت نہ دیتا ہو کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ایران کے وزیر خارجہ نے شام کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران، شام کے بحران میں جنگ ختم کرانے اور امن قائم کرنے کے لئےمزید فعال کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران شام کے بحران کے تعلق سے جنیوا ٹو کانفرس میں شرکت کیلئے تیار ہے بشرطیکہ صدر بشار اسد کے استعفی کی بات نہ کی جائے۔ انہوں نے امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کی اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہ ایران کو ایک ملت ہونا چاہیے نہ کہ علت، کہا کہ ایران بھی امریکہ کی طرح اپنی اقدار اور مفادات کی راہ میں کام کررہا ہے اور یہ صرف امریکہ نہیں ہے جو خود کو برتر قوم سمجھتا ہے بلکہ ایران اپنے بارے میں یہی نظریہ رکھتا ہے۔

.......

/169