13 دسمبر 2013 - 20:30
امریکہ طالبان اور صہیونیوں کے ہاتھوں نابود ہوگا: آیت اللہ جوادی آملی

آیت اللہ جوادی آملی، امریکہ طالبان اور صہیونیوں کے ہاتھوں نابود ہوگا۔ /انہوں نے استکباری طاقتوں کے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خداوند عالم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو شخص ظلم کرے گا وہ اسی ظلم کی وجہ سے نابود ہوگا۔

ابنا: آیت اللہ  جوادی آملی نے اپنے فقہ درس خارج کی ابتداء میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ایمان بہترین سرمایہ اور باعث نجات ہے اور قرآن کریم نے بھی ایمان کے بہت زیادہ فضائل ذکر کئے ہیں۔ انہوں نے استکباری طاقتوں کے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خداوند عالم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو شخص ظلم کرے گا وہ اسی ظلم کی وجہ سے نابود ہوگا۔

تکفیری تحریک کا فکری مرکز امریکا اور اسرائیل ہے   " تکفیری تحریک کے خطرات " کے عنوان سے عالمی کانفرنس منعقد کرنے والے گروہ سے عالمی اسراء وحیانی علوم فاونڈیشن میں حضرت آیت الله جوادی آملی سے ملاقات کرتے ہوئے اس کانفرنس کے منعقد کرنے کے لئے انجام پائے رپورٹ ان کی خدمت میں پیش کی ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی پیش کی گئی رپورٹ سننے کے بعد اس اشارہ کے ساتہ کہ ہر زمانہ میں حق کے مقابلہ میں باطل کا وجود رہا ہے بیان کیا : ہم لوگ اس زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں پانچ مد مقابل جارحین سے روبرو ہیں کہ جو ہر ایک جہنم کے مصداق ہیں ، اور حوزات علمیہ کو چاہیئے کہ ایسے علوم سے مسلح ہوں تا کہ اس پانچ گروہ کے ذریعہ پیش انے والے خطرات کا جواب دیا جا سکے ۔

حوزہ علمیہ قم کے مشہور استاد نے اس پانچ طرح کے خطرات کو بیان کرتے ہوئے وضاحت کی : پہلا منحرف گروہ و خطرہ پیدا کرنے والے بعض ایسے ہیں کہ خداوند عالم کے مقابل میں خدائی کا دعوا کرتے ہیں جیسے فرعون ، اسی طرح ہر پیغمبر کے مقابلہ میں ایک جعلی شخص پیغمبر بنتا ہے اور مزید ہر غدیر کے مقابلہ میں ایک سقیفہ کا وجود ہوتا ہے ۔

 انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : دوسرے منحرف گروہ وہم ہیں جو سچے اور حقیقی عالم دین جو کتاب و سنت کے محافظ ہیں ان کے مقابلہ میں درباری علماء بھیموجود ہیں جو حکومت کی مرضی کے مطابق فتوای دیا کرتے ہیں اور اسی طرح مومنین کے مقابلہ میں مومن نما منافق بھی پائے جاتے ہیں ۔

 حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس ملک میں اہل سنت و شیعوں کے ساتہ پر امن باہمی زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : آیت اللہ بروجردی مرحوم کے زمانہ سے ابھی تک اہل سنت و شیعوں کے درمیان نزدیکی کے لئے جتنی بھی کوشش کی گئی اس کے باوجود افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے کاموں میں کچھ کوتاہی کی وجہ سے آج اسلامی مذاہب کے درمیان بعض اختلاف دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

 انہوں نے تکفیری تحریک میں اسرائیل و امریکا کے کرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : تکفیری تحریک سے مقابلہ کے لئے ان کی فکری پشت پناہی یعنی اسرائیل و امریکا کی فعالیت پر غور کرنا چاہیئے اور جان لینا چاہیئے کہ تکفیریوں کے ہاتھوں سے ہتھیار کیسے لیا جا سکتا ہے کیوں کہ خود ان کے ہاتھوں میں ان ہی لوگوں نے ہتھیار دیا ہے ۔

 حضرت آیت الله جوادی آملی نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے حکومت اور اس کے سربراہوں سے تکفیری تحریک سے مقابلہ کرنے کا سنجدہ راہ حل نکالنے کا مطالبہ کیا : حکومت کے سربراہ خاص کر وزارت خارجہ حوزات علمیہ کے علماء و دارالترقریب و مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے ساتہ مل کو دوسری ممالک اور مذاہب اسلامی کے سربراہوں سے گفت و گو کریں تا کہ ہر روز ہو رہے مسلمانوں کے قتل عام کو روکا جا سکے ۔

انسان جب خود کو نہ دیکھے تب وہ خدا کے فیض کو دیکھتا ہےآیت الله عبدالله جوادی آملی نے آج صبح اپنے فقہ کے درس خارج میں اس اشارہ کے ساتہ کہ ایمان ایک بہترین ثروت ہے اور نجات کا سبب ہے بیان کیا : قرآن کریم ایمان کی فضیلت اور مومنین کے لئے درجہ بیان کیا ہے اور کامیابی مومنین کا لئے جانا ہے «قد افلح المومنون» ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتہ کہ ایمان کیا ہے اس سوال کا جواب علمی دیا جائے بیان کیا : ہم لوگ کہتے ہیں مومن وہ شخص ہے جو کہ خدا ، رسول ، غیب اور اصول دین پر ایمان رکھتا ہو اور فروع دین ہر عمل کرے حالانکہ یہ جواب غیر عالمانہ ہے اور ایمان کے لوازمات کو بیان کر رہا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے اظہار کیا : اس لئے کے ایمان کی تعریف کریں اس سے پہلے دیکھا جائے کہ مومن کون ہے اور پھر دیکھا جائے کہ مومن کی پہچان کے لئے خدا نے کس کو مومن سے تعارف کرایا ہے خداوند عالم سورہ حشر میں فرماتا ہے میں مومن ہوں «سلام مومن مهیمن ...» ۔

انہوں نے وضاحت کی : اب دیکھنا یہ ہے کہ مومن مشترک لفظی ہے جو کہ خدا کے سلسلہ میں ایک جدا معنی رکھتا ہے اور انسان کے لئے یک دوسرا معنی رکھتا ہے یا یہ کہ ایک حقیقت اور ایک معنا رکھتا ہے لیکن اس کے لوازمات فرق کرتے ہیں ۔

قرآن کریم کے مفسر نے اس اشارہ کے ساتہ کہ مومن یعنی حفاظت کرنے والا ، امان عنایت کرنے والا اور سلامتی دینے والا بیان کیا : اگر ہم لوگ خود چاہتے ہیں کہ امان میں رہیں اور خود کی سلامتی چاہیں تو پناہ گاہوں میں داخل ہونا ضروری ہے وہی پناہ گاہ کے فرمایا «کلمه لا اله الا الله حصنی» لیکن اس کا لازمہ یہ ہے کہ اصول دین پر ایمان رکھیں اور فروع دین پر عمل کریں ؛ یہ اس صورت میں ہے کہ مومنین کی جو صفت خدا نے بیان کی ہے ہم بھی اس میں شامل ہو جائے نگے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : خدا دوسروں کے لئے مفافظ ہے ہم لوگ اپنے لئے محافظ ہیں ۔ جو شخص سلامتی عنایت کرتا ہے وہ مومن ہے اور یہ مومن صاحب غلبہ ہے اسی وجہ سے غالبیت کا ذکر مومن کے ساتہ ہوتا ہے یعنی جو کہ سلامتی عطا کرنے والا ہے وہ غلبہ رکھتا ہے ، کیونکہ وہ اس حد تک صاحب قدرت ہوتا ہے کہ عذاب الیم کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے نفس سے مقابلہ میں خود کو نجات دیتا ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اظہار کیا : امام کاظم علیہ السلام کی دعا میں بیان ہوا ہے «ان الراحل الیک قریب المسافه» ؛ اے خدا جو شخص چاہتا ہے تمہاری طرف آئے اس کے لئے بہت مختصر راستہ ہے ، ہمارے اور خدا کے فیض کے درمیان پردہ ہے ۔ مرحوم صدوق کتاب توحید میں حضرت ابراهیم سے نقل کیا ہے «لیس بینه و بین خلقه حجاب غیر خلقه» تب یہ خلق خود ایک باریک پردہ ہے نہ یہ کہ خدا اور خلق کے درمیان ایک پردہ حائل ہے بلکہ خود خلق پردہ و فاصلہ ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے اختمام میں بیان کیا : انسان جب خود کو نہیں دیکھتا ہے اس وقت وہ خدا کے فیض کو دیکھتا ہے اور یہ وہی ایمان ہے لیکن اس کا لازمہ یہ ہے کہ اصول دین پر ایمان لائے اور فروع دین پر عمل کرے ۔ تب یہ مومن اخلاق الہی کا متخلق ہوتا ہے اور اس وقت خود اور سماج دونوں کے لئے نجات کا سبب ہوتا ہے ۔

.......

/169