اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق, رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں ثقافت کے مقام و منزلت اور اس کی اہمیت کو اپنے خطاب میں پہلے نکتہ کے عنوان سے پیش کیا اور تینوں قوا کے سربراہان کے ثقافتی سوابق اور اسی طرح ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے اکثر اراکین کے ثقافتی میدان میں دردمند ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس کونسل سےاسی بنیاد پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں ثقافت کے موضوع کو نمایاں بنانے اور اس کو حقیقی مقام و منزل تک پہنچانے میں زیادہ سے زیادہ اہتمام اور تلاش و کوشش کریں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافت اور ثقافتی اقدار کو ایک قوم کا تشخص ، پہچان اور روح قراردیتے ہوئے فرمایا: ثقافت در حقیقت سیاست اور اقتصاد کے ذیل میں نہیں ہے بلکہ سیاست اور اقتصاد ، ثقافت کے ذیل میں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف میدانوں میں تمام اہم موضوعات اور مسائل کے سلسلے میں ثقافت کے ہمراہ ہونے کےبارے میں اپنی ماضی کی سفارشات پر تاکید کرتے ہوئےفرمایا: بعض اوقات ممکن ہے کہ فیصلے اور منظور شدہ قوانین ، سیاسی، اقتصادی ، سماجی اور علمی ہوں لیکن ان کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں جس کی اصل وجہ ثقافتی امور پر عدم توجہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ثقافتی سرگرمیوں کے لئےمنصوبہ بندی ضروری ہے اور یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ملک کی ثقافت خود بخود آگے بڑھے گی چاہے وہ عام ثقافت ہو یا ممتاز شخصیات کی ثقافت ہو یا یونیورسٹی سے متعلق ثقافت ہو۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ثقافتی مسائل کے سلسلے میں حکومت کی ہدایت اور نگرانی کے لازمی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کی عام ثقافت کے بارے میں ملک کے مختلف ادارے ذمہ دار ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی مسائل میں حکومت کی ہدایت اور نگرانی کو باغ کے خوبصورت پھولوں کی باغباں کی جانب سے حفاظت اور نگرانی کے مانند قرارد یتے ہوئے فرمایا: پھولوں کے رشد و نمو اور پانی ، نور اور ہوا سے درست استفادہ کی غرض سے باغ سے فرسودہ اور غلط قسم کی گھاس پھوس کو صاف کردیاجاتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حساس اور غلط ثقافتی مسائل کا مقابلہ کرنے کو حکومت کی نظارتی ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: ملک کی عام ثقافت اور ثقافتی مسائل کے بارے میں ہم سب کے دوش پر شرعی اور قانونی ذمہ داری عائد ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافت کو عوام کی موجودگی پر استوار قراردتے ہوئے فرمایا: ثقافتی مسائل کو عوام کے حوالے کرنے کا مطلب حکومت کی ہدایتی اور نظارتی ذمہ داری کی نفی نہیں ہے اور اسی طرح ثقافتی میدان میں حکومت کی موجودگی عوام کی موجودگی سلب کرنے کے معنی میں بھی نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغرب کی طرح ثقافتی آزادی کے سلسلے میں بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جب مغربی ممالک مرد و عورت کے اختلاط جیسے غلط ،غیر منطقی اور غیر معقول مسائل کو مرد اور عورت کے سلسلے میں مساوی قراردینے پر اصرا کرتے ہیں تو کیوں ہم اسلام کی اعلی اور گرانقدر اقدار کے نفاذ پر اصرار نہ کریں؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دوسرا نکتہ ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے مقام و منزلت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل حضرت امام خمینی (رہ) کی ایک عظیم خلاقیت ہے جو ملک کی ثقافت کا سب سے اعلی اور بہترین مرکز ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل میں ملک کی اہم اور مؤثر علمی اور ثقافتی شخصیات کی موجودگی کو اس کونسل کا قوی اور مضبوط نقطہ قراردیتے ہوئے فرمایا: یہی مسئلہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ملک کی ثقافت کا معاملہ سیاسی نشیب و فراز کے تابع نہ ہواور ملک کی ثقافتی حرکت میں ہمیشہ ثبات اور دوام باقی رہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کونسل کے اراکین ملک کی ثقافتی پالیسیوں کے سلسلے میں کونسل کے مؤثر مقام و منزلت پر یقین رکھتے ہوں اور اسے اصلی مرکز کے عنوان سے پہچانتے ہوں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ثقافتی کونسل کے جلسات میں اراکین کی پیہم اور مسلسل شرکت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کو بنیادی اور اساسی موضوعات پر توجہ مبذول کرنے چاہیے اور جزوی مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیسرے نکتہ کے طور پر ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے منظور شدہ قوانین کے اجراء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ثقافتی کونسل کے قوانین پرحتمی طور پر عمل درآمدہونا چاہیے ۔
.....
/169