ابنا: سعودی عرب کی ایک فلم کا مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں نے وسیع پیمانے پر استقبال کیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی اس فلم صہیونی حکومت کے علاقوں میں استقبال کچھ اس طرح کا ہوا ہے کہ سنیما گھروں کے مالکوں نے اپنے شو کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور صہیونی حکومت کے دیگر شہروں میں بھی اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فلم کہ جس کا نام " وجدہ " ہے ایک دس سالہ لڑکی کی کہانی پر مبنی ہے کہ جس کا خواب اس ملک میں سائیکل چلانا ہے ، لیکن اس ملک کے آداب و رسوم اس کو اس کام کی اجازت نہیں دیتے۔ صہیونی حکومت کے ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ فلم اسرائیل میں نہایت ہی کامیاب رہی ہے اور اسرائیل کے سنیما گھروں میں رونق کا باعث بنی ہے ، خاصطور پر سعودی عرب کی بنائی ہوئی ایک فلم اسرائیلوں کے لئے ایک کارنامہ شمار ہوتی ہے اور اسرائیلی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں ایک عورت کس طرح زندگی بسر کرتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فلم ایک ایسے ملک میں بنی ہے کہ جہاں ایک بھی سنیما گھر موجود نہیں ہے۔ صہیونی حکومت کے ریڈیو نے یہ بھی کہا کہ اس فلم کا عبرانی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
6 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 486810
سعودی عرب کی ایک فلم کا مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں نے وسیع پیمانے پر استقبال کیا ہے۔