6 دسمبر 2013 - 20:30
شام: دہشت گرد ٹولوں کے درمیان شدید اختلافات

شام میں حکومت اور عوام کے خلاف نبرد آزما دہشت گرد ٹولوں کے ایک قریبی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ احرار الشام اور جیش الاسلام نامی دہشت گرد ٹولوں کے درمیان اختلافات نے شدت اختیار کی ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ دو ٹولوں کے درمیان شدید اختلافات منظر عام پر آنے کے بعد مذکورہ ذریعے نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان دو گروپوں کے سرغنوں اور افراد کے درمیان اختلافات نے شدت اختیار کی ہے جس کے باعث دونوں نے اپنے ماتحت غیر ملکی دہشت گردوں کو داعش میں شامل ہونے سے روکنے کے لئے شدید انتظامات کرلئے ہیں جو اپنے گروپ کی کمزوری کی وجہ سے داعش کی طرف بھاگ سکتے ہیں کیوں داعش کو آل سعود کی مالی اور عسکری امداد حاصل ہے اور شام میں بھی کئی تیل کے کنؤوں پر اس ٹولے کا قبضہ ہے جہاں سے وہ تیل یورپ کو برآمد کررہی ہے! اس ذریعے کے مطابق جب سے خلیج فارس کی ریاستوں کے اشاروں پر اسلامی محاذ کی تشکیل کا اعلان ہوا ہے اور اس کا منشور شائع ہوا ہے ان گروپوں کے غیر ملکی دہشت گردوں کے درمیان بغاوت کے جذبات ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ احرار شام اور جیش الاسلام کے 600 غیر ملکی اراکین نے ان دونوں تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے تاہم ان افراد کی علیحدگی کو خفیہ رکھا جارہا ہے تاکہ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان اختلافات پھیلنے کا سد باب کیا جائے۔  دریں اثناء حکومت شام کے ایک مخالف حمید القامشلی نے کہا ہے کہ حال ہی میں جبہۃالاسلامی کے ستر غیر ملکی اراکین داعش سے جاملے ہیں اور اگرچہ ان افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن تنظیم نے اپنی حالت سدھارنے کی غرض سے متعلقہ خبروں پر پردہ ڈالا ہے۔ داعش کے ایک دہشت گرد عبداللہ الفائز نے کہ ہے کہ اسلامی محاذ امریکہ نے بنایا ہے اور خلیج فارس کی ریاستوں نے اس کو اسمبل کیا ہے اور اس کو شیخ نشین ریاستوں کی حمایت حاصل ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭