ابنا: منگل کے روز امریکا کی قومی سلامتی کمیٹی کی ترجمان میہان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم بہت ہی محدود افزودگی پر مذاکرات کے لئے آمادہ ہو رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی کہ چکا ہے کہ دنیا کے چھ پڑی طاقتوں کے ساتھ کسی بھی ایٹمی سمجھوتے میں این پی ٹی کے مطابق، تہران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔گر چہ واشنگٹن کی جانب سے یہ پہلا با ضابطہ بیان ہے جس میں اس طرح کی بات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم ان تمام روکاوٹوں کے باوجود ایک سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں تو ہم ایران ضرورتوں کے مطابق افزودگی کی معمولی توانائی کو تسلیم کرکے ایک حتمی سمجھوتے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔......./169
4 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 486172
وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ایٹمی سمجھوتے میں یورینیم کی افزودگی کی توانائی شامل ہو سکتی ہے۔