اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق غوطہ الشرقیہ میں شامی افواج نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے 5 ہزار کے قریب حملہ آور دہشت گردوں کو ماربھگایا ہے اور ان میں سے کم از کم 500 افراد کو ہلاک کرڈالا ہے جبکہ دہشت گردوں کو اس جنگ سے کچھ بھی نہیں حاصل ہوسکا ہے۔ شام میں ایک باخبر ذریعے نے لبنانی اخبار "السفیر" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے: دہشت گردوں کے حملے سے 10 دن قبل علاقے میں شدید اور مسلسل دھند تھی اور دہشت گردوں نے اچانک حملہ کیا جبکہ دیر سلمان اور ریلوے لائن میں افواج کے اگلے مورچے نامربوط تھے اور ان میں ایک دراڑ پائی جاتی تھی، دشمن انسانی لہروں سے استفادہ کرکے حملے کررہا تھا جبکہ حملے کے وقت فوجی دستوں میں ہمآہنگی کا شدید فقدان تھا اور ان وجوہات کی بنا پر دہشت گردوں کو ابتدائی طور پر کچھ پیشرفت حاصل ہوئی تاہم ان کا بڑا حملہ روک لیا گیا اور وہ حتی کہ العتیبہ تک بھی نہ پہنچ سکے اور فوج نے بہت جلد ایک جوابی حملہ کیا اور دہشت گرد دیر سلمان، القاسمیہ اور ریلوے لائن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہونے کے باوجود سرکاری افواج کے جوابی حملے میں ان علاقوں سے بھی پسپا ہوگئے اور ان علاقوں کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا۔ اس ذریعے نے بتایا کہ اس حملے میں دو سے پانچ ہزار تک دہشت گردوں نے شرکت کی جن میں سے پہلے دن کم از کم 400 دہشت گرد مار دیئے گئے۔ انھوں نے کہا: فوج کی شدید گولہ باری اور شامی افوج کے نئے سوخوی لڑاکا بمبار طیاروں کی کی بمباری ـ جن سے سرکاری افواج پہلی مرتبہ استفادہ کررہی تھی ـ چوتھے ڈویژن کے ایلیٹ بریگیڈ کی مداخلت، اور حزب اللہ اور حرم سیدہ زینب(س) کی محافظ عراقی یونٹوں کے بر وقت تعاون کی برکت سے مسلح دہشت گردوں کا ابتدائی حملہ ناکام ہوا اور دہشت گرد اپنے چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ علاقے میں منشر ہوگئے اور یوں ان کی قدم بقدم نابودی کے امکانات فراہم ہوئے اور اس طرح التعیبہ کی جنگ نے الغوطہ الشرقیہ کو صوبے کے مرکزی شہر "دوما" سے الگ کردیا اور جنوبی شام کو اردن سے الگ کردیا اور جنیوا 2 کانفرنس کی آمد آمد پر سعودی اور یہودی ریاستوں کی سازش ناکام ہوئی اور وہ حتی ایک انچ بھی پیشقدمی نہ کرسکے۔
شام: حکومت مخالف تنظیم کا القاعدہ کے خلاف جنگ اور فوج کے ساتھ تعاون کا اعلانفری سیرین آرمی کے نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ سلیم ادریس نے شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے خلاف جنگ اور سرکاری افواج کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سلیم ادریس کے اس بیان نے زیادہ تر برطانوی اخبارات کو اس اعلان میں مصروف کر دیا ہے۔ سلیم ادریس نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار "ٹائم" کو انٹرویو دیتے ہوئے شام میں القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مخالف مسلح تنظیمیں ملک میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں سرکاری افواج کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔
تفصیل کے لئے کلک کریں:
شام: حکومت مخالف تنظیم کا القاعدہ کے خلاف جنگ اور فوج کے ساتھ تعاون کا اعلان
بشار الجعفری: شام میں ہزاروں سعودی ہلاک اور 300 قید حراست میں ہیں اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب ڈاکٹر بشار الجعفری نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ہزاروں سعودی دہشت گرد شام کے عوام اور حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں جن میں سے ہزاروں ہلاک ہوئے ہیں اور 300 کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بشار الجعفری نے کہا کہ صرف اسی ہفتے کے دوران ہزاروں سعودی دہشت گرد شامی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک کئے گئے ہيں اور 300 کو حکومت نے گرفتار کیا ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی عدالتوں سے پھانسی یا عمر قید کی سزا پانے والے دہشت گردوں کو "جہاد کی خاطر" جیلوں سے رہا کرکے شام منتقل کیا گیا ہے اور تمام سعودی دہشت گرد سرکاری سیکورٹی ایجنسی کی منظوری سے شام منتقل ہوئے ہیں۔ تفصیل کے لئے کلک کریں:
بشار الجعفری: شام میں ہزاروں سعودی ہلاک اور 300 قید حراست میں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭