اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، دو ہفتے قبل ابوظہبی میں 29 عرب اور اسلامی ممالک کے وزارئے خارجہ کے اجلاس کی افتتاحی تقریر کا مہمان صہیونی صدر شیمون پیرز تھا جس نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عربوں کو فیض رسانی کی۔حالیہ ایام میں عرب اسرائیل اعلانیہ ساز باز کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں اور خاص طور پر آل سعود اور آل صہیون کے درمیان ساز باز کی خبریں کچھ زیادہ ہی نمایاں تھیں لیکن یہ ایک بالکل نیا واقعہ ہے کہ اسرائیلی دشمن عربوں اور مسلمانوں کے ایک اجلاس کا افتتاح کرے جبکہ نہ تو کسی کو سوال پوچھنے کا حق تھا اور نہ ہی کسی نے واک آؤٹ کیا بلکہ آخر تک بیٹھے اور سنتے رہے اور آخر میں اس کو داد بھی دی۔ گوکہ یہ ممالک اپنی قوموں کے نمائندے نہیں ہیں اور ان کی رائے بھی عرب اور مسلم اقوام کی رائے نہیں ہے۔ صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اس واقعے کو "ایک تاریخی واقعہ" قرار دیا اور لکھا: اجلاس ابوظہبی میں ہورہا تھا اور اس میں بحرین، امارات، کویت، عمان، یمن اور قطر سمیت متعدد عرب اور اسلامی ممالک ـ منجملہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور بنگلادیش ـ کے وزرائے خارجہ اور سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا بیٹا، بھی شریک تھے۔پیرز نے شہر قدس میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا اور اس کے سر پر یہودی ریاست کہ پرچم لگا ہوا تھا اور اس نے اس اجلاس کی افتتاح نشست سے خطاب کیا۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا نائب "ٹیری لارسن" اور فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی ریاست کے درمیان مذاکرت کے لئے امریکی ایلچی "مارٹن اینڈک" نے اس اجلاس سے صہیونی صدر کے خطاب کا اہتمام کیا تھا۔ یدیعوت آحارونوت نے لکھا: شرکاء نے پیرز کا خطاب اچھے بچوں کی طرح سنا، کسی نے بھی واک آؤٹ نہیں کیا اور اس کے خطاب کے بعد سب نے تالی بجا کر اس کو داد دی۔ کانفرنس سے یہودی ریاست کے صدر کا خطاب بظاہر خفیہ تھا تاہم نیویارک ٹائمز کے تجزیہ نگار تھامس فریڈمین، جو اجلاس میں موجود تھا، نے اس واقعے کے فاش کیا۔ عرب ممالک کے سرکاری ذرائع نے اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے۔
نکتے:٭ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس اجلاس اور اجلاس سے یہودی ریاست کے صدر کے خطاب کا منصوبہ امارات کی حکومت نے تیار کیا تھا اور اس کے سلسلے میں امارات اور اسرائیل کے درمیان پیشگی مفاہمت ہوئی تھی اور طے یہ تھا کہ پوری داستان خفیہ رہے۔ ادھر فریڈ مین نے لکھا ہے کہ 19 نومبر کے اجلاس میں پیرز کی غیر معمولی شرکت عرب اور اسرائیل کے درمیان امن و صلح کے لئے نہ تھی بلکہ یہ اس قبائلی قاعدے کے مطابق دشمن کا دشمن دوست ہے اور یہاں دشمن "ایران" ہے۔ ٭ شیمون پیرز نے بقول اس کے "مشترکہ مفادات!" کو موضوع سخن بنایا اور ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل اور خطے کے ممالک کے لئے خطرہ قرار دیا۔ ٭ اجلاس ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان مفاہمت سے قبل منعقد ہوا تھا۔ ٭ صہیونی چینل 24 نیوز نے اس واقعے کے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
صہیونی صدر ہے کون؟
بچوں کے قاتل شمعون پیرز کا مختصر تعارف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون ہے جو آل صہیون اور آل سعود کے درمیان رابطے کا کردار ادا کررہا ہے؟