29 نومبر 2013 - 20:30
ملکی باشندوں کے خلاف آنسو گیس کا غیر معمولی استعمال

ملکی باشندوں کے خلاف آنسو گیس کا غیر معمولی استعمال/ ملت بحرین آخر کار کامیاب ہو گی/آل خلیفہ کی سرنگونی یقینی/ آل خلیفہ کے خلاف بحرینی عوام کی نفرت میں شدت.

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے سیاسی رہنماوں نے آل خلیفہ کی طرف سے عوامی مظاہروں میں غیر معمولی آنسو گیس کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیموں اور سیاسی لیڈروں نے عالمی برادری سے جنوبی کوریا کی اس کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اپیل کی ہے جس نے آل خلیفہ حکومت کو ایک میلین ساٹھ ہزار آنسو گیس کے گولے فروخت کئے ہیں۔انسانی حقوق کے محافظ اور محقق ’’بلامرزاک‘‘ نے کہا ہے کہ بحرین کی حکومت صرف اس صورت میں سیاسی لیڈروں کو آزاد کر سکتی ہے اور بحرینی باشندوں کے حقوق واپس لوٹا سکتی ہے جب خود اس کے اتحادیوں برطانیہ اور امریکہ کی طرف سے اس پر دباو پڑے۔انہوں نے مزید کہا: بحرینی حکومت غیر معمولی طریقے سے عوامی مظاہروں پر آنسو گیس کا استعمال کرتی ہے۔انہوں نے تاکید کی: شائع شدہ تصویروں اور ویڈیو کلیپوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرینی حکومت روزانہ ۹ مرتبہ سے زیادہ ایک گاوں پر آنسو گیس کی بمبار منٹ کرتی ہے۔ آل خلیفہ صرف اس وجہ سے عوامی بستیوں کو مورد حملہ قرار دیتی ہے چونکہ عوام سیاسی گرفتاروں کی حمایت کرتے ہیں۔ملت بحرین آخر کار کامیاب ہو گی بحرین کی اسلامی تنظیم الوفاق کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے نبیل رجب کی گرفتاری کو ظلم قرار دیا ہے اور ان  کی گرفتاری کے لیے جاری کئے گئے احکامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی گردانا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ لوگوں نے اپنے حق آزادی بیان کا استعمال کرتے ہوئے پر امن مظاہرے کئے ہیں لیکن انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔الوفاق کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا ہے کہ جب ملت بحرین اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے میدان میں نکل آئے تو کوئی انہیں روک نہیں سکے گا یاد رہے کہ ملت بحرین آخر کار کامیاب ہو کر رہے گی۔آل خلیفہ کی سرنگونی یقینیچودہ فروری نامی اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کی سرنگونی یقینی ہے اور احتجاجی مظاہروں سے آل خلیفہ کے فاسد حکام کی سازشیں ناکام  ہوجائيں گي۔ اس تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ سعودی عرب کی پالیسیوں پر عمل کررہی ہے اور ملت بحرین کو کچل کر اس کے انقلاب کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ اس اتحاد نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ملت بحرین کے انقلاب کی حمایت کرے۔ گذشتہ روز بھی ملت بحرین نے منامہ سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئےتھے جن پر آل خلیفہ کے کارندوں حملے کرکے متعدد افراد کو زخمی کردیا تھا۔مظاہرین نے ایک نہتی اور سن رسیدہ خاتوں پر آل خلیفہ کے کارندوں کے تشدد کی تھی مذمت کی۔ واضح رہے ملت بحرین اپنے پامال شدہ حقوق اور آل خلیفہ کی جاہلانہ امتیازی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ آل خلیفہ کے خلاف بحرینی عوام کی نفرت میں شدت آل خلیفہ کی شاہی حکومت ایسی حالت میں مظاہرین کے خلاف اپنا تشدد جاری رکھے ہوئے ہے کہ جب بحرینی عوام نے کل نماز جمعہ کے بعد پرامن مظاہرے کر کے اپنے ان جائز حقوق کا مطالبہ کیا جن کو آل خلیفہ کی شاہی حکومت مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ اور دوسرے شہروں میں مظاہرے کرنے والوں نے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کی آزادی اور عوام پر سیکورٹی فورسز کے تشدد کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ آل خلیفہ کے کارندوں کو منامہ کے حساس مقامات پر تعینات کردیاگیا تھا۔ انھوں نے مظاہروں کا سلسلہ روکنے کے لۓ مظاہرین کو اپنی گولیوں اور آنسو گیس کے شیلوں کے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگۓ ۔ سیکورٹی فورسز نے دسیوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ہیومن رائٹس واچ کے محقق بلامرزاک نے کہا ہےکہ جب تک انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی ممالک مظاہرین پر تشدد ختم کرنےکے سلسلے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے اس وقت تک یہ حکومت عوامی تحریک کو کچلنے کے لۓ اپنے مظالم جاری رکھے گي۔بلا مرزاک نے مزید کہا کہ بحرینی حکومت اور اس کی سیکورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف تشویشناک حد تک آنسو گیس کا استعمال کرتی ہیں۔ بلا مرزاک نے مخالفین کے ساتھ  قومی مذاکرات پر مبنی بحرینی حکومت کے دعوے کو سفید جھوٹ سے تعبیر کیا  اور کہا کہ یہ دعوے ایسی حالت میں کۓ جارہے ہیں کہ جب بحرین کی جیلوں میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو ابتر صورتحال کا سامنا ہے۔بحرین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن احمد الودائی نے بھی یورپ اور خطے کے بعض ممالک کی جانب سے آل خلیفہ کی حمایت کو عوام پر اس حکومت کے مظالم جاری رہنے کا سبب قرار دیا۔ احمد الودائی نے پریس ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے کارندوں کے تشدد کو پاگل پن سے تعبیر کیا اور کہا کہ جب تک سعودی عرب ، امریکہ اور برطانیہ بحرین کے حکام کی حمایت کرتے رہیں گے اس وقت تک آل خلیفہ کی حکومت اپنے تشد آمیز اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گي۔الودائي نے بحرینی حکام کے اس رویۓ کی روک تھام کا واحد ذریعہ بحرینی عوام کی جانب سے آل خلیفہ کی حکومت پر دباؤ ڈالے جانے کو قرار دیا اور کہا کہ بحرینی عوام پر تشدد اس قدر بڑھ چکا ہے کہ آل خلیفہ کے فوجی لوگوں کے گھروں پر حملے کر کے گھر کے افراد کو گرفتار کرنے  کے بعد ایذا رسانی کے لۓ پولیس کے مراکز میں منتقل کردیتے ہیں۔احمد الودائی نے مزید کہا کہ آل خلیفہ کے یہ غیر انسانی اقدامات ایسی حالت میں جاری ہیں کہ جب عالمی ذرائع ابلاغ اور بعض یورپی حکومتوں نے ان اقدامات کے سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اورآل خلیفہ کی شاہی حکومت کسی طرح کے عالمی دباؤ کے بغیر عوام کی سرکوبی جاری رکھے ہوئے ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲