29 نومبر 2013 - 20:30
مغرب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام سے جا ملنے والا ہے!

شام میں دہشت گردوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرکے شام کو تباہ کرنے میں ملوث ہون والے مغربی ممالک کو اچانک تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں مغرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت شام کے ساتھ تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنیوا 2 کانفرنس میں صدر بشار الاسد کی برطرفی پر اصرار نہ ہوگا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے فائنانشل ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی ممالک نے رابطہ کرکے دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی جنگ کی حمایت کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ جنیوا 2 کانفرنس میں شامی صدر بشار الاسد کی برطرفی کے حوالے سے دہشت گردوں کے مطالبے کو توجہ نہيں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت شام نے جنیوا 2 کانفرنس کو اسی صورت میں مفید جانا ہے کہ یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز پر منتج ہوجائے۔ فیصل المقداد نے کہا: مجھے مکمل طور پر یقین ہے کہ یورپ اور امریکہ کی قومیں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ ہم شام میں پوری دنیا کی نیابت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔انھوں نے کہا: بعض مغربی ممالک کے حکام نے حکومت شام سے رابطے کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے معلومات کے تبادلے اور انٹیلجنس تعاون کی پیشکش کی ہے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا: صدر اسد کی برطرفی جیسے غیر قانونی مطالبات عرصہ قبل ترک کئے جاچکے ہیں اور ایران کے ساتھ چھ ممالک کی جوہری مفاہمت بھی مشرق وسطی میں مغربی پالیسیوں کی تبدیلی کا نتیجہ ہے؛ ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسئلے میں مفاہمت تک پہنچنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے شرکاء نے سیاسی راہ حل تک پہنچنے کے لئے اپنی سابقہ پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔ المقداد نے امید ظاہر کی کہ جنیوا کانفرنس 2 شام میں دہشت گردی کا سلسلہ روکنے اور اس ملک میں امن و استحکام کی بحالی پر منتج ہو۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا ہے کہ جنیوا کانفرنس 2 22 جنوری 2013 کو منعقد ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭