26 نومبر 2013 - 20:30
شام،ملک گير فوجي آپريشن ميں مزيد سيکڑوں دہشتگرد ہلاک

شام ميں دہشتگردوں کے خلاف ملک گير فوجي آپريشن ميں مزيد سيکڑوں دہشتگرد ہلاک ہوئے ہيں -

ابنا: ادھر حلب کے رہائشي علاقے پر دہشتگردوں کے مارٹر حملے ميں کم سے کم گيارہ عام شہري جاں بحق ہوگئے - دوسري جانب دمشق حکومت نے اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل اور سلامتي کونسل کے چيئر مين کے نام خط ميں دہشتگردوں کے خلاف ہمہ گير مہم کي ضرورت پر زور ديا ہے - شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات ميں واقع مشرقي غوط نامي علاقے ميں فوج کے ساتھ لڑائي ميں تين سو سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوگئے جن ميں ايک سو ستر دوسرے ملکوں کے دہشتگرد  بھي تھے - مشرقي غوطہ سے موصولہ آخري رپورٹ ملنے تک اس علاقے ميں  فوج اور دہشتگردوں کے درميان لڑائي جاري تھي اور فوج نے دہشتگردوں کا محاصرہ زيادہ تنگ کرديا تھا.   اس رپورٹ کے مطابق شام کي فوج نے، مشرقي غوط ميں البحاريہ نامي علاقے کو دہشتگردوں سے آزاد کراليا ہے  جبکہ المرج نامي علاقے ميں بھي دہشتگردوں کو فوج کے مقابلے ميں سخت ہزيمت اٹھاني پڑي ہے- رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ يہ علاقہ  کسي بھي وقت دہشتگردوں سے آزاد ہوسکتا ہے.بعض رپورٹوں ميں القلمون نامي علاقے ميں بھي فوج اور دہشتگردوں کے درمان سخت لڑائي کي خبر دي گئي ہے  - القلمون نامي بڑے علاقے کو فوج نے آزاد کراليا ہے اور بقيہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے فوج کي کارروائياں جاري ہيں -درعا کے عين الفيجہ نامي علاقے ميں بھي فوجيوں کي کارروائي ميں درجنوں دہشتگرد ہلاک ہوگئے - اسي طرح شام کے شمال مغربي علاقے ادلب ميں بھي فوجيوں نے دہشتگردوں کے دو اڈوں کو تباہ اور بہت سے دہشتگردوں کو ہلاک کرديا  ہے -  شام کے فوجيوں نے اسي طرح شمالي علاقے لاذيقيہ سے شام ميں داخل ہونے کے لئے دہشتگردوں کي ايک کوشش ناکام بنادي ہے -ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ حلب ميں ايک رہائشي علاقے پر دہشتگردوں کے مارٹر حملے ميں کم سے گيارہ افراد جاں بحق اور بہت سے زخمي ہوگئے -اسي کے ساتھ شام کي وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل اور سلامتي کونسل کے چيئر مين کے نام الگ الگ خط ارسال کرکے کہاہے  کہ شام ميں دہشتگرد گروہ عام شہريوں کا قتل عام کررہے ہيں بنابريں،  شام کے بحران کي  پرامن راہ حل کے حصول کے لئے دہشتگردي  کے خلاف ہمہ گير مہم اور مجاہدت ضروري ہے-شام کي وزارت خارجہ نے ان خطوط ميں لکھا ہے کہ شام ميں تشدد اور دہشتگردي ختم کرنے کے لئے ضروري ہے کہ مغربي اور بعض عرب حکومتيں دہشتگردوں کي مالي اور اسلحہ جاتي امداد بند کرديں.شام کي وزارت خارجہ نے اپنے اس خط ميں لکھا ہے کہ سعودي عرب، قطر اور ترکي ان ممالک ميں شامل ہيں جو شام ميں سرگرم دہشتگردوں کي حمايت کرتے ہيں -شام کي وزارت  خارجہ نے اس خط ميں مشرق وسطي بالخصوص شام ميں مقامي عيسائيوں کے خلاف دہشتگرد تنظيموں کي حمايت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، تشدد ،بدامني اور دہشتگردي کي وارداتوں کا سنجيدگي کے ساتھ نوٹس ليا جائے اور اس کو جڑ سے ختم کرنے کي تدبير سوچي جائے  -......./169