ابنا: روسی وزیر اعضم نے کہا کہ ہم شام میں متحارب فریق کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں اورہم سمجھتے ہیں کہ دسرے افراد بھی جن کا شام میں لڑ رہے افراد سے رابطہ ہے، انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں۔ میدودیف نے غیر ملکی حمایت یافتہ انتہا پسندوں کے اس مطالبے کی تنقید کی کہ مذاکرات سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ صدر بشار اسد حکومت سے ہٹ جائیں گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ زمینی سچائی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب شام کے معاملے میں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصی ایلچی نے جمعے کے روز کہا کہ اگر غیر ملکی حمایت یافتہ اپوزیشن اتحاد نے جنیوا مذاکرات میں حصہ نہ لیا تو اس کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دمشق میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کی موجودگی، واجب، ضروری اور اہم ہے۔
.....
/169