ابنا: پاکستان کے معرف عالم اہلسنت مفتی ہدایت اللہ پسروری نے پاکستان میں دیگر ممالک کی طرح طالبان کا باضابطہ دفتر کھولے جانے سے متعلق بعض سیاسی جماعتوں کی تجویز کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے اس ناسور نے بہت سی جانیں لی ہیں۔ کوئی بھی شخص جو باضمیر ہے وہ ان قاتلوں کی حمایت نہیں کرسکتا، جنہوں نے مسلمان کے لیے عید کے دن بھی خون کی ہولی کھیلی، یقیناً یہ لوگ دنیا میں بھی رسوا ہوں اور آخرت میں بھی۔ مفتی ہدایت اللہ پسروری پسروی نے کہا کہ ابھی تو دفتر بھی نہیں کھلے تو یہ صورتحال ہے اگر پاکستان میں باقاعدہ طور پر دفتر کھل گئے تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔ اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ اسلحہ کے زور پر اپنی بات منوائی جائے، اسلام تو امن اور سلامتی کا دین ہے۔اسلام ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہا تھا کہ ہمارے آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے منافی جو بھی کام کرے گا، لعنت اور عذاب کا حقدار ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ طالبان کا مقصد دین کی تبلیغ نہیں بلکہ دین کو بدنام کرنا ہے۔ یہ کہاں کا اسلام ہے کہ بچے اسکول جا رہے ہیں تو حملہ کر دیں۔ مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں تو وہاں حملہ کر دیں۔ مسلمان اگر مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات پر عبادت خدا میں مصروف ہوں تو اُن پر حملہ کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے ہر سمت میں جنگ شروع کر رکھی ہےیہ لوگ پاکستان اور اسلام کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیںانہوں نے کہا کہ جو اقلیتیں پاکستان میں موجود ہیں اُن کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم یہاں بسنے والی اقلیتوں کا تحفظ نہیں کریں گے، امریکہ و یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی کون حفاظت کرے گا۔ مساجد، امام بارگاہیں، مزارات، گرجا گھر، چرچ کو نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے۔ جو لوگ ان مقدسات کی توہین کرتے ہیں، اُن کا دور تک اسلام سے کوئی تعلق نہیں.
.......
/169