19 اکتوبر 2013 - 20:30
رہبر معظم کا صدر کی حیثیت سے چین کا یادگار دورہ + پہلی بار شائع ہونے والی تصاویر

آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے سنہ 1989 میں چین کا دورہ کیا جو آپ کا آخری بیرونی دورہ ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کا انتقال ہوا اور آپ نے انقلاب اسلامی کی قیادت سنبھالی۔ اس دورے میں آپ سرکاری دسترخوان پر کھانا تناول کرنے کے بجائے حلال کھانے کے لئے مسلم ریستوران تشریف لے گئے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی حیثیپ سے ـ امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کی وفات حسرت آیات سے کچھ ہی عرصہ قبل چین کا دورہ کیا۔ آپ نے یہ دورہ چین اور ایران کے درمیان سیاسی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے کیا تھا اور جب کھانے کا وقت آیا تو آپ چینی حکومت کی ضیافت میں شرکت کرنے کے بجائے حلال اسلامی کھانے پیش کرنے والے ریستوران تشریف لے گئے۔اس دورے کی خاص خاص باتیں: دنیا جانتی ہے کہ چین میں تقریبا ہر چیز کھائی جاتی ہے اور وہاں کے پکوانوں کا اسلامی احکام سے دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے چنانچہ سید نے اپنے وفد کے ہمراہ ایک عمومی ریستوران "المطعم الاسلامی" کا رخ کیا تا کہ وہاں موجود تیار کھانا تناول فرمائیں۔ ریستوران کے منیجر کو جب معلوم ہوا کہ ایک اعلی سطحی سیاسی وفد ان کے ریستوران میں موجود ہے تو انھوں نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے ایک خاص طعام تیار کروایا لیکن آپ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اعلی قسم کا کھانا واپس کرکے فرمایا کہ وہ وہی کھانا کھانے کو ترجیح دیں گے جو وہاں آنے والے غریب اور متوسط طبقے والے افراد کھا سکتے ہیں۔ یہ تصاویر پہلی بار شائع کی جارہی ہیں:

1

اس دورے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی بھی موجود تھے۔

2

قابل ذیر ہے کہ یہ ریستوران چینی نام "ہونگ لیوو" کے نام سے مشہور ہے۔ تصویر کے ایک زاویئے میں ان چینی اور غیر ملکی حکام کی تصویریں لگائی گئی ہيں جو اس ریستوران میں کبھی کھانا کھانے کے لئے آئے ہیں۔ اس تصویر میں رہبر معظم کے ساتھ اس وقت کے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نظر آرہے ہیں۔ 

اس دورے کے موقع کی ایک خصوصیت جو ابلاغی حوالے سے بھی دلچسپ تھی، یہ ہے کہ ایرانی وفد کا طیارہ ابھی نہیں اترا تھا کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ چین کے بزرگ راہنما دنگ شیاؤ پنگ (Deng Xiaoping) علیل ہیں اور وہ ایرانی صدر سے نہیں مل سکیں گے اور ملاقات کا پروگرام منسوخ کیا گیا۔ چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے بھی ایک تخلیقی کاروائی کرکے فرمایا کہ وہ چین کے دیگر حکام سے اپنی ملاقاتیں منسوخ کرتے ہیں۔ اور یوں آپ نے چینی حکومت کو بالواسطہ طور پر پیغام دیا کہ ایران کے نمائندہ وفد کی سطح چینی راہنما کی سطح سے کسی طور بھی کم نہیں ہے۔ آپ کے اس اعلان کے بعد عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم لی پینگ (Li Peng) معذرت کرنے کی غرض سے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

3

بیجنگ میں اس وقت کے ایرانی سفیر ڈاکٹر علاء الدین بروجردی اس واقعے کو یوں نقل کرتے ہیں: چینی وزیر اعظم لی پینگ (Li Peng) چین کی پیپلز کانگریس سے صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی مقام رہائش پر آئے جبکہ دور سے کہہ رہے تھے: چھوٹا بڑے کے دیدار کے لئے آیا ہے۔ اور اس کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوئے اور تقریبا 25 منٹ تک آقا سے بات چیت کی اور کہا: ہم مہمانوں بالخصوص آپ جناب کی شخصیت کا انتہائی احترام اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہمارے راہنما کی علالت سنجیدہ ہے اور ڈاکٹروں نے ان کو ملاقاتوں سے منع کیا ہے تاہم ہم اس مسئلے کے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

4

واضح رہے کہ رہبر امام خامنہ ای کی یہ تخلیقی صلاحیت اور شجاعت سبب ہوئی کہ سب نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی سطحی وفد کے سامنے سر تعظیم خم کیا اور عوامی جمہوریہ چین کے بزرگ راہنما دنگ شیاؤ پنگ (Deng Xiaoping) نے ایرانی صدر اور وفد کو ملاقات کا وقت دیا جو غیرملکی وفود کے دیئے جانے والے معمول کے وقت سے دو گنا زیادہ تھا۔

تصاویر اور رپورٹ دیدبان ویب سائٹ سے ماخوذ ہیں جن کا اردو ترجمہ کرنے کا اعزاز ابنا کو حاصل ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭