17 اکتوبر 2013 - 20:30
میں نے اپنی عمر میں کبھی سعودی حکومت سے زیادہ بری اور بےشرم حکومت نہیں دیکھی

فلٹمین نے کہا ہے کہ جب آل سعود کے حکمرانوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان قربت کو محسوس کیا تو ان پر جنون اور دیوانگی کی کیفیت طاری ہوئی حتی کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کی منسوخی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی تقریر کا متن بھی شرکاء کے درمیان تقسیم کرنے سے انکار کیا۔ کیا اتنا زیادہ بغض و کینہ عقلمندی پر مبنی ہے؟

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ تنظیم کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے نائب جیفری فلٹمین نے کہا: میں نے اپنی عمر میں کبھی آل سعود کی حکومت سے زیادہ وقیح اور بےشرم حکومت نہیں دیکھی اور مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکومت اپنی حکمرانی کو کس طرح جاری رکھے گی۔ لبنانی اخبار "الاخبار" نے لکھا ہے کہ جیفری فلٹمین نے کہا ہے کہ جب آل سعود کے حکمرانوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان قربت کو محسوس کیا تو ان پر جنون اور دیوانگی کی کیفیت طاری ہوئی حتی کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کی منسوخی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی تقریر کا متن بھی شرکاء کے درمیان تقسیم کرنے سے انکار کیا۔ کیا اتنا زیادہ بغض و کینہ عقلمندی پر مبنی ہے؟ الاخبار نے فلٹمین کے حوالے سے لکھا: سعودی حاکمیت عراق اور لبنان کے لئے کسی قسم کی خیر نہیں چاہتی اور لبنان میں حکومت کے قیام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ الاخبار لکھتا ہے: بعض لبنانی اور عرب حکام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جیفری فلٹمین سے ملاقات کی تو فلٹمین نے آل سعود پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ریاض لبنان میں حکومت کی تشکیل نہیں چاہتا۔ فلٹمین نے ان عرب سفارتکاروں سے کہا: میں نے آج تک اپنی پوری عمر میں آل سعود کی حکومت سے زيادہ بے شرم اور زیادہ بری حکومت نہيں دیکھی، مجھے نہیں معلوم یہ حکومت اپنی حاکمیت کس طرح جاری رکھتی ہے۔ ادھر ایران نیوز نیٹ ورک نے کہا ہے کہ اس امریکی سفارت کار نے ـ جو اقوام متحدہ کے سینئیر اہلکار کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ـ کہا کہ آل سعود نے بغداد کے ساتھ اختلافات کے بعد اس عراق کے ساتھ تفاہم کے تمام تر راستے بند کردیئے اور آل سعود کی حاکمیت اس ملک میں ایک بھی اچھی چیز دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ فلٹمین نے کہا: ریاض لبنان کے ساتھ بھی یہی سلوک کررہا ہے اور اس ملک کے بارے میں ایک بات بھی سننا پسند نہیں کرتا؛ یہ سارے مسائل بھی آل سعود کی بد انتظامی کا نتیجہ ہیں۔ سعودی کسی صورت میں بھی لبنان میں حکومت تشکیل دینے کے درپے نہیں ہیں اور وہ پورے سسٹم کو معطل کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر اس سلسلے میں لبنان کی سیاسی جماعت عوامی تحریک کے سربراہ نجاح واکیم نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بندر بن سلطان امریکی اور صہیونی مفادات کے پیش نظر لبنان کے سیاسی میدان سے مزاحمت تحریک کو باہر رکھنے کے لئے نئی حکومت کی تشکیل کے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ آل سعود نے بحرین کی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ کی مدد کے لئے اس ملک میں مداخلت کی، یمن میں مداخلت کی اور انقلاب کو منحرف کرنے میں پیش پیش رہے، تیونس اور لیبیا میں عوامی انقلابات کو ناکام بنانے یا ان انقلابات کو ان کے راستے سے منحرف کرنے کے لئے فتنہ انگیز ٹولوں کی سرپرستی کی اور پوری دنیا میں آل سعود کے منفی اقدامات کے لئے آج کوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہيں ہورہی ہے۔ آل سعود کی وجہ سے پورا خطہ آگ اور خون کے سمندر کے دھانے پر کھڑا ہے۔ اپریل 2013 میں لبنان کے سابق وزير اعظم نجیب میقاتی نے استعفا دیا تو صدر میشل سلیمان نے سلام تمام کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی مگر آل سعود کے حامی 14 مارچ دھڑے کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے وہ ابھی تک حکومت بنانے میں ناکام رہے ہیں اور سعودی حکومت مغرب نواز جماعتوں کے اتحاد "14 مارچ الائنس" کی بھرپور حمایت کررہی ہے اور اختلافات کو ہوا دے رہی ہے۔عراق میں بدامنی پھیلانے اور ہر روز درجنوں دھماکے کرانے اور بےگناہ اور نہتے عوام کا قتل عام کرنے اور شام میں عوام کا قتل عام کرنے میں بھی آل سعود ترکی اور قطر کے ہمراہ بھرپور شیطانی کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ان دو ملکوں میں وسیع فرقہ وارانہ لڑائی شروع کروانے کے لئے اپنے زیر سرپرستی بدنام زمانہ دہشت گرد ٹولے "دولۃالاسلامیۃ في العراق و الشام (داعش)" کو بھرپور عسکری اور مالی امداد فراہم کررہے ہیں۔ داعش القاعدہ کی ذیلی تنظیم ہے جبکہ شام میں جبہۃالنصرہ نامی خونخوار تنظیم بھی القاعدہ کی ذیلی تنظیم سمجھی جاتی ہے گوکہ بعض ذرائع اس کو اخوانی تنظیم سمجھتے ہیں اور آج کل ترک حکومت اس کی حمایت کررہی ہے۔ واضح رہے کہ صہیونی اور سعودی لابیوں کی مشترکہ کوششوں سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر شدید دباؤ ڈالے جانے کے بعد جیفری فیلٹمین نے متعدد سفارتکاروں کے سامنے بیان کردہ اس موقف کی تردید کردی اور کہا کہ انھوں نے سعودی عرب کے بارے میں کچھ بھی نہيں کہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

شامی عوام اور مسلح افواج کی حمایت کے لئے کلک کریں اور نام، ایمیل ایڈریس اور سائن کریں۔ یہ میرا اور آپ کا فرض ہے