13 اکتوبر 2013 - 20:30
حجاج کرام کے نام رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کا پیغام + فتوی

حضرت آیت‌الله العظمی امام خامنہ ای نے حج کے عظیم اجتماع کے انعقاد کے سلسلے میں اہم پیغام جاری کیا ہے۔ جو اتحاد مسلمین کے بارے میں ایک فتوی پر بھی مشتمل ہے۔ جس میں ہر اس عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے جو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے اسباب فراہم کرے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پیغام کا متن سوموار 14 اکتوبر 2013 کو امور حج میں ولی فقیہ کے نمائندے اور ایرانی حجاج کے سرپرست حت الاسلام و المسلمین قاضی عسکر نے عرفات میں منعقدہ برائت از مشرکین کے اجتماع میں پڑھ کر سنایا۔ پیغام کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

والحمد لله رب العالمین و الصلوة والسلام علی سیدالانبیاء و المرسلین و علی آله الطیبین و صحبه المنتجبین

موسم حج کی آمد کو امت اسلامیہ کی عظیم عید سمجھنا چاہئے۔ ہر سال یہ گراں قدر ایام  دنیا بھر کے مسلمانوں کو جو سنہری موقعہ فراہم کرتے ہیں وہ ایسا کرشماتی کیمیا ہے کہ اگر اس کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا جائے اور اس سے کما حقہ استفادہ کیا جائے تو عالم اسلام کی بہت سی کمزوریوں اور زد پذیریوں کا علاج ہو سکتا ہے۔حج فیض الہی کا ابلتا چشمہ ہے۔ آپ خوش قسمت حاجیوں میں سے ہر ایک نے، خلوص اور روحانیت سے معمور مناسک و اعمال کے دوران دل و جان کو پاکیزہ کرکے رحمت و عزت و طاقت کے اس سرچشمے سے اپنی پوری زندگی کے لئے ذخیرہ جمع کرنے کی سعادت حاصل کرلی ہے۔ خدائے رحیم کے سامنے خشوع اور خود سپردگی، مسلمانوں کے دوش پر ڈالے جانے والے فرائض کی پابندی، دین و دنیا کے معاملات میں نشاط اور عمل و اقدام، بھائیوں کے ساتھ تعامل اور میل جول میں رحمدلی و درگذر، دشوار واقعات کے سامنے جرائت و خود اعتمادی، ہر جگہ اور ہر مسئلے میں اللہ کی مدد و دستگیری کی امید، مختصر یہ کہ تعلیم و تربیت کے اس میدان الہی میں مسلمان کہلانے کے لائق انسان کی تعمیر و پرورش، کو آپ اپنے لئے بھی مہیا کر سکتے ہیں اور اپنے وجود کو  ان زیوروں سے آراستہ اور ان ذخیروں سے بہرہ مند کرکے، اپنے ملک و قوم کے لئے اور بالآخر امت اسلامیہ کے لئے بطور سوغات لے جا سکتے ہیں۔آج امت اسلامیہ کو سب سے بڑھ کر ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو فکر و عمل کو ایمان اور اخلاص و خلوص کے ساتھ، کینہ پرور اور بداندیش دشمن کے سامنے استقامت کو معنوی اور روحی خوسازی (اصلاح نفس)، کے ساتھ فراہم کریں۔ یہ مسلمانوں کے عظیم معاشرے کی ان مصیبتوں سے نجات پانے کا واحد راستہ ہے جن میں وہ یا تو وہ واضح طور پر دشمن کے ہاتھوں، یا پھر ماضی بعید سے اپنے عزم ایمان اور بصیرت کی کمزوری کی وجہ سے، مبتلا ہوئے ہیں۔ بے شک موجودہ دور مسلمانوں کی بیداری اور تشخص یابی کا دور ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ان مسائل اور چیلنجوں سے بوضوح کیا جاسکتا ہے جن کا آج مسلم ممالک کا سامنا ہے۔ ان ہی حالات میں ایمان و توکل، اور بصیرت و تدبیر پر استوار عزم و ارادہ مسلم اقوام کو ان چیلنجوں اور مشکلات میں کامیابی اور سربلندی سے ہمکنار کر سکتا ہے اور ان کی قسمت کو قسمت فخر اور وقار کی طرف لےجاسکتا ہے۔ مخالف محاذ جو مسلم اقوام کی بیداری اور عظمت و عزت کو برداشت کرنے کا روادار نہيں ہے، پوری قوت کے ساتھ میدان میں آیا ہے کو منفعل (Passive) بنانے، کچلنے، اور آپس میں الجھانے کے لئے تمام تر سیکورٹی، نفسیاتی، عسکری، معاشی، تشہیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں ـ پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام، عراق، فلسطین اور خلیج فارس کے ممالک تک ـ نیز شمالی افریقہ میں ـ لیبیا سے مصر، تیونس سوڈان اور بعض دیگر ممالک تک ـ کی صورت حال پر ایک نظر بہت سے حقائق کو واضح کرتی ہے۔ خانہ جنگیاں، اندھی دینی و مذہبی عصبیتیں، سیاسی عدم استحکام، سنگدل دہشت گردی کا رواج، شدت پسند اور انتہا پسند جمعیتوں اور سلسلوں (Extremist Streams) کا ظہور، جو تاریخ کی وحشی قوموں کی طرح انسانوں کے سینے چاک کرتے ہیں، ان کا دل نکال کر دانتوں سے چیر پھاڑ لیتے ہیں؛ وہ مسلح عناصر جو بچوں اور خواتین کو قتل کرتے ہیں، مردوں کے سر قلم کرتے ہیں اور ان کی نوامیس کی آبروریزی  کرتے  ہیں، اور حتی کہ بعض مواقع پر دین کے نام پر اور دین کے پرچم تلے، ان شرمناک اور نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں؛ یہ سب کچھ اغیار کے خفیہ اداروں اور علاقے میں ان کے ہمنوا حکومتی عناصر کی شیطانی اور استکباری منصوبوں کا نتیجہ ہے، جو ممالک کے اندرونی طور پر موافق حالات و [اور درندگی کے لئے تیار] پس منظر میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور قوموں کا مقدر تاریک اور ان کا ذائقہ تلخ کر دیتا ہے۔ یقینا ان حالات میں یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ مسلم ممالک معنوی اور مادی خلا کو پر کرسکیں گے اور امن و سلامتی، رفاہ آسائش، سائنسی ترقی اور عالمی سطح پر اپنی قوت اور ساکھ کو ـ جو بیداری اور تشخص یابی کے برکات و ثمرات میں سے ہے ـ حاصل کر سکیں گے۔ یہ خوفناک اور تکلیف دہ حالات اسلامی بیداری کو ناکام اور عالم اسلام کی سطح پر وجود میں آنے والی ذہنی مُستَعِدی کو ضائع اور تباہ کر سکتے ہیں اور ایک بار پھر طویل عرصے تک مسلم اقوام کو جمود، تنہائی اور زوال کی جانب کھینچ سکتے ہیں اور امریکی و صہیونی جارحیتوں سے فلسطین اور مسلم اقوام کی نجات جیسے اہم اور بنیادی مسائل کی فراموشی کے اسباب فراہم کرسکتے ہیں۔ بنیادی اور اساسی حل کو دو کلیدی جملوں میں بیان کیا جا سکتا ہے اور یہ دونوں حج کے نمایاں ترین دروس ہیں: اول: پرچم توحید تلے مسلمانوں کا اتحاد اور اخوت،دوئم: دشمن شناسی اور اس کے منصوبوں اور چالوں کا مقابلہجذبۂ اخوت اور یکجہتی کی تقویت حج کا عظیم درس ہے۔ یہاں حتی جدال و نزاع اور کھردری بات تک کرنا منع ہے۔ یکساں لباس، یکساں اعمال، یکساں حرکات و سکنات، اور محبت آمیز سلوک، یہاں ان سب لوگوں کی برابری اور اخوت کے مترادف ہے جو اس مرکز توحید کے معتقد اور ہیں اور اس پر دل لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اسلام کی طرف سے ہر فکر اور عقیدے اور دعوت کی تردید ہے جو مسلمانوں اور کعبہ و توحید کے معتقدین کو دائرہ اسلام سے خارج سمھجے۔ تکفیری عناصر جو آج غدار صہیونیوں کی پالیسیوں کا بازیچہ بن کر ہولناک جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں، اور مسلمانوں اور بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں؛ اور وہ دینداری کے دعویدار اور اہل علم کا لباس پہنے وہ افراد ـ جو شیعہ اور سنی اختلافات یا دوسری منافرتوں کو ہوا دے رہے ہیں ـ جان لیں کہ حج کے اعمال بذات خود، ان کے اس مدعا کو باطل کررہے ہیں۔ باعث حیرت ہے کہ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سے جڑ پکڑنے والے عمل یعنی برائت من المشرکین (مشرکین سے بیزاری) کو جدال ممنوع قرار دیتے ہیں، خود مسلمانوں کے درمیان خونی تنازعات کھڑے کرنے میں مؤثر ترین کردار ادا کررہے ہیں۔ میں ـ بہت سے علمائے اسلام اور امت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کی مانند ـ ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں کہ ہر قول اور ہر فعل ـ جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی آگ بھڑکا دے ـ نیز مسلمانوں کے کسی بھی گروہ کے مقدسات کی توہین، یا اسلامی مذاہب میں سے کسی مذہب کی تکفیر، کفر و شرک کے کیمپ کی خدمت اور اسلام سے خیانت اور شرعی لحاظ سے حرام ہے۔ دشمن اور اس کی روشوں اور شیووں کی شناخت دوسرا اہم اصول ہے۔ پہلی بات یہ کہ کینہ پرور دشمن کی موجودگی کو غفلت و فراموشی کےسپرد نہیں کرنا چاہئے، اور حج میں رمی جمرات (شیاطین پر کنکریاں پھینکنے) کا عمل کئی بار دہرانا، اس دائمی ابدی توجہ (یعنی دشمن شناسی) کا علامتی نمونہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اصل دشمن کی شناخت ـ جو آج کے زمانے میں عالمی استکباری محاذ اور جرائم پیشہ نیٹ ورک ہی ہے ـ میں کبھی بھی خطا کا مرتکب نہيں ہونا چاہئے۔ اور تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ معاند دشمن کی روشوں اور چالوں کو  بخوبی پہچاننا اور سمجھنا چاہئے جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ انگیزی، سیاسی بدعنوانیوں اور اخلاقی برائیوں کی ترویج، معاشرے کے چیدہ اور ممتاز افراد کو للچانے اور دھمکانے، اقوام پر معاشی دباؤ بڑھانے، اسلامی اعتقادات میں شکوک و شبہات پیدا کرنے، سے عبارت ہیں، اور ان سے وابستہ قوتوں اور افراد اور جان بوجھ کر یا انجانے میں ان کے کٹھ پتلی بننے والے عناصر کو ان کے توسط سے پہچان لینا چاہئے۔ استکباری حکومتیں اور ان کے آگے آگے، امریکہ وسیع اور جدید و پیشرفتہ ابلاغی وسائل کی مدد سے، اپنا اصل چہرہ چھپا لیتے ہیں اور انسانی حقوق اور جمہوریت کی حمایت کا دعوی کرکے اقوام عالم کی رائے عامہ کے سامنے مکارانہ اور عیارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایسے حال میں اقوام کے حقوق کا دعوی کرتے ہیں کہ مسلم اقوام ہر روز، گذشتہ دن سے کہیں زیادہ شدت سے، ان کے فتنوں کی آگ کو اپنے جسم و جان سے محسوس کرتی ہیں۔ کئی عشروں سے ہر روز صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں سے زخم سہنے والی فلسطینی قوم، یا پاکستان، افغانستان اور عراق جیسے ممالک ـ جن کے عوام کی زندگی کو استکبار اور اس کے علاقائی کٹھ پتلیوں کی گود میں پلنے والی دہشت گردی نے تلخ کردیا ہے، یا صہیونیت مخالف مزاحمت محاذ کی پاداش میں بین الاقوامی تسلط پسند قوتوں اور ان کے علاقائی کارگزاروں کے بغض اور عناد کا نشانہ بن کر خونریز خانہ جنگی کا شکار ہونے والے ملک شام، یا بحرین اور میانمار، جن میں دکھوں کا شکار مسلمان نظرانداز کئے گئے ہیں اور ان کے دشمنوں کی حمایت کی جا رہی ہے، یہ دوسروں اقوام جن کو امریکہ اور اس کے حلیفوں کی طرف سے فوجی یلغار یا معاشی پابندیوں یا تخریبکاری کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، پر ایک نظر تسلط پسند عالمی نظام کے ان سرغنوں کا اصل چہرہ سب کے سامنے بے نقاب کرسکتی ہے۔ سیاسی، ثقافتی اور دینی شعبوں میں ممتاز اور چیدہ شخصیات، اپنے آپ کو عالم اسلام کے ہر مقام پر ان حقائق کے افشاء کا پابند سمجھیں۔ یہ ہم سب کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔ شمالی افریقہ کے ممالک ـ جو بدقسمتی سے گہرے اندرونی اختلافات سے دوچار ہوچکے ہیں ـ، سب سے زیادہ اس عظیم فریضے ـ یعنی دشمن اور اس کی چالوں اور مکاریوں کو سمجھنے اور پہچاننے ـ  کو توجہ دیں۔ قومی حلقوں کے درمیان اختلافات کو جاری رہنا اور خانہ جنگی کے خطرات سے غفلت برتنا، بہت عظیم خطرہ ہے جس سے امت اسلامیہ کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ مستقبل قریب میں ممکن نہيں ہوگا۔ البتہ ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس علاقے کی اٹھی ہوئی قومیں ـ جنہوں نے اسلامی بیداری کو مجسم کیا ہے ـ اللہ کے اذن سے، وقت کی سوئیوں کو پیچھے کی طرف نہيں گھومنے دیں گی اور بدعنوان اور اغیار سے وابستہ اور استبدادی حکمرانوں کا دور کو دور واپس نہيں آنے دیں گی تاہم فتنہ انگیزیوں میں استکباری طاقتوں کے کردار اور تباہ کن مداخلتوں سے غفلت، ان کے کام کو دشوار بنائے گی اور عزت و سالمیت اور رفاہ و آسائش کے دور کے برسوں پیچھے دھکیل دے گی۔ ہمیں قوموں کی صلاحیت اور عوام الناس کے عزم و ایمان اور بصیرت میں خداوند حکیم کی طرف سے ودیعت شدہ طاقت پر یقین راسخ رکھتے ہیں اور اس کو تین عشروں سے زیادہ کے عشرے میں اسلامی جمہوریہ ایران ميں اپنی آنکھوں نے دیکھتے آئے ہیں اور اپنی پورے وجود سے آزماچکے ہیں؛ ہم تمام مسلم اقوام کو دعوت دینا چآہتے ہیں کہ وہ اس سربلند اور ناتھکنے والے ملک میں، اپنے بھائیوں کے اس تجربے سے استفادہ کریں۔ خداوند متعال سے مسلمانو