9 اکتوبر 2013 - 20:30
ایران، برطانیہ تعلقات کی بحالی کے لئے مذاکرات

برطانيہ کے وزير خارجہ وليم ہيگ نے کہا ہے کہ سفارتي تعلقات کي بحالي کے سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران سے مذاکرات ہو رہے ہيں ـ

ابنا: وليم ہيگ نے برطانيہ کي پارليمنٹ کے ايوان زيريں ہاؤس آف کامنز ميں مشرق وسطي کے تغيرات پر بريفنگ ديتے ہوئے کہا کہ برطانيہ اور ايران کے حکام کے درميان پہلے دور کے مذاکرات ہو چکے ہيں جس ميں يہ طے پايا ہے کہ غير مقيم ناظم الامور منصوب کئے جائيں گے جو مکمل سطح پر سفارتي تعلقات کي بحالي کے سلسلے ميں مذاکرات کے طريقے کا جائزہ ليں گےـ وليم ہيگ نے ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف سے اپني ملاقات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے فيصلہ کيا ہے کہ روابط کي بحالي کے لئے اور خاص طور پر دونوں ملکوں کے سفارت خانوں کو کھولنے کي سمت ميں قدم اٹھانے کے لئے ناظم الامور منصوب کئے جائيں ـانہوں نے کہا کہ سفارت خانوں کے کھلنے سے قبل تعلقات کي بحالي ضروري ہے اور اس عمل ميں دونوں سفارت خانوں کے عملے کے افراد کي تعداد، سفارت خانے کي عمارتوں اور ديگر شرائط کا جائزہ ليا جائے گاـ ياد رہے کہ نومبر دو ہزار گيارہ ميں برطانيہ کي ايران مخالف پاليسيوں سے ناراض کچھ لوگوں نے تہران ميں برطانيہ کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کيا جس کے دوران سفارت خانے کي ديوار اور گيٹ کو نقصان پہنچا تھا، اس واقعے کے بعد برطانيہ کي حکومت نے يکطرفہ طور پر ايران سے اپنے روابط ختم کر لئے اور تہران ميں اپنا سفارت خانہ بند کر ديا تھاـبرطانيہ نے ايران کي حکومت کو يہ موقعہ بھي نہيں ديا کہ وہ واقعے کي تحقيقات  کراتي ـ وليم ہيگ نے برطانوي پارليمنٹ ميں اپني بريفنگ کے دوران اسي طرح  ايران کے ايٹمي مسئلے کے سلسلے ميں آئندہ مذاکرات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ امريکا اور برطانيہ دونوں چاہتے ہيں کہ ايران پر عائد پابنديوں پر نظرثاني کريں۔

.......

/169