5 اکتوبر 2013 - 20:30
خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے استغفار، فروتنی اور صدقہ دینا ضروری ہے

حضرت امام محمد تقی الجواد (ع) نے فرمایا: انسان کے لیے فقرکی زینت ”عفت “ ہے خدائی امتحان کی زینت شکرہے حسب کی زینت تواضع اورفرتنی ہے کلام کی زینت ”فصاحت“ ہے روایات کی زینت ”حافظہ“ ہے علم کی زینت انکساری ہے ورع وتقوی کی زینت ”حسن ادب “ ہے قناعت کی زینت ”خندہ پیشانی“ ہے ورع وپرہیزگاری کی زینت تمام مہملات سے کنارہ کشی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت امام محمد تقی (ع)  سےبہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے علوم اہل بیت کی تعلیم حاصل کی۔ حضرت امام محمد تقی  سے بھی کلمات قصار کا ایک مجموعہ  منقول ہے جس میں بعض مندرجہ ذيل ہیں۔۱۔ خداوندعالم جسے جونعمت دیتاہے بہ ارادہ دوام دیتاہے ، لیکن اس سے وہ اس وقت زائل ہوجاتی ہے جب وہ لوگوں یعنی مستحقین کودینابندکردیتاہے ۔۲۔ ہرنعمت خداوندی میں مخلوق کاحصہ ہے جب کسی کوعظیم نعمتیں دیتاہے تولوگوں کی حاجتیں بھی کثیرہوجاتی ہیں اس موقع پراگرصاحب نعمت (مالدار) عہدہ برآہوسکاتوخیرورنہ نعمت کازوال لازمی ہے۔۳۔ جوکسی کوبڑاسمجھتاہے اس سے ڈرتاہے۔۴۔ جس کی خواہشات زیادہ ہوں گی اس کاجسم موٹاہوگا۔ ۵۔ صحیفہ حیات مسلم کاسرنامہ ”حسن خلق“ ہے۔۶۔ جوخداکے بھروسے پرلوگوں سے بے نیازہوجائے گا، لوگ اس کے محتاج ہوں گے۔ ۷۔ جوخداسے ڈرے گاتولوگ اسے دوست رکھیں گے۔۸۔ انسان کی تمام خوبیوں کامرکززبان ہے۔ ۹۔ انسان کے کمالات کادارومدارعقل کے کمال پرہے ۔۱۰۔ انسان کے لیے فقرکی زینت ”عفت “ ہے خدائی امتحان کی زینت شکرہے حسب کی زینت تواضع اورفرتنی ہے کلام کی زینت ”فصاحت“ ہے روایات کی زینت ”حافظہ“ ہے علم کی زینت انکساری ہے ورع وتقوی کی زینت ”حسن ادب “ ہے قناعت کی زینت ”خندہ پیشانی“ ہے ورع وپرہیزگاری کی زینت تمام مہملات سے کنارہ کشی ہے۔۱۱۔ ظالم اورظالم کامددگاراورظالم کے فعل کے سراہانے والے ایک ہی زمرےمیں ہیں یعنی سب کادرجہ برابرہے۔۱۲۔ جوزندہ رہناچاہتاہے اسے چاہئے کہ برداشت کرنے کے لیے اپنے دل کوصبرآزمابنالے۔۱۳۔ خداکی رضاحاصل کرنے کے لیے تین چیزیں ہونی چاہئیں اول استغفار دوم نرمی اورفروتنی سوم کثرت صدقہ۔۱۴۔ جوجلدبازی سے پرہیزکرے گا لوگوں سے مشورہ لے گا ،اللہ پربھروسہ کرے گاوہ کبھی شرمندہ نہیں ہوگا۔ ۱۵۔ اگرجاہل زبان بندرکھے تواختلافات نہ ہوں گے ۱۶۔ تین باتوں سے دل موہ لیے جاتے ہیں ۱۔ معاشرہ انصاف ۲۔ مصیبت میں ہمدردی ۳۔ پریشان خاطری میں تسلی ۔امام محمدتقی کی نظربندی، قیداورشہادتمدینہ رسول (ص)سے فرزندرسول (ص) کوطلب کرنے کی معتصم غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجودآپ کو حکومت وقت نے کسی قسم کی رعایت نہیں دی ۔علامہ اربلی لکھتے ہیں ، کہ چون معتصم بخلافت بہ نشست آنحضرت راازمدینہ طیبہ بدارالخلافة بغداد آورد وحبس نمود(کشف الغمہ ص ۱۲۱) ۔ایک سال تک آپ نے قیدکی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اورآپ کوخدانے یہ شرف کیوں عطا فرمایاہے بعض علماء کاکہناہے کہ آپ پراس قدرسختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اورنظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے بہرحال وہ وقت آگیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال ۳ماہ ۱۲/ یوم کی عمرمیں قیدخانہ کے اندرآخری ذی قعدہ (بتاریخ ۲۹/ ذی قعدہ ۲۲۰ہجری یوم سہ شنبہ) معتصم کے زہرسے شہیدہوگئے (کشف الغمہ ص ۱۲۱، صواعق محرقہ ص ۱۲۳، روضة الصفاجلد ۳ص ۱۶، اعلام الوری ص ۲۰۵، ارشاد ص ۴۸۰، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷، انوارالحسینیہ ص ۵۴) ۔آپ کی شہادت کے متعلق ملامبین کہتے ہیں کہ معتصم عباسی نے آپ کوزہرسے شہیدکیا (وسیلة النجات ص ۲۹۷) علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ کوامام رضا (ع) کی طرح زہرسے شہیدکیاگیا(صواعق محرقہ ص ۱۲۳)علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ ”گویندیہ زہرشہیدشہ“ کہتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے (روضة الشہداء ص ۴۳۸) ۔ ملاجامی کی کتاب میں ہے ”قیل مات مسموما“ کہاجاتاہے کہ آپ کی وفات زہرسے ہوئی ہے (شواہدالنبوت ص ۲۰۴) ۔علامہ نعمت اللہ جزائری لکھتے ہیں کہ ”مات مسموما قدسمم المعتصم“ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں اوریقینا معتصم نے آپ کوزہردیاہے، انوارالعنمانیہ ص ۱۹۵)علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ انہ مات مسموما آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ”یقال ان ام الفضل بنت المامون سقتہ ،بامرابیہا“ کہاجاتاہے کہ آپ کوآپ کی بیوی ام الفضل نے اپنے باپ مامون کے حکم کے مطابق (معتصم کی مددسے) زہردے کرشہیدکیا (نورالابصارص ۱۴۷،ارحج المطالب ص ۴۶۰) ۔مطالب یہ ہواکہ مامون رشیدنے امام محمدتقی کے والدماجدامام رضاکواوراس کی بیٹی نے امام محمدتقی کوبقول امام شبلنجی شہیدکرکے اپنے وطیرہ مستمرة اوراصول خاندانی کوفروغ بخشاہے ، علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ ”دخلت امراتہ ام الفضل الی قصرالمعتصم “ کہ امام محمدتقی کوشہیدکرکے ان کی بیوی ام الفضل معتصم کے پاس چلی گئی بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے شہادت کے وقت ام الفضل کے بدترین مستقبل کاذکرفرمایاتھا جس کے نتیجہ میں اس کے ناسور ہوگیاتھا اوروہ آخرمیں دیوانی ہوکرمری۔مختصریہ کہ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیزوتکفین میں شرکت کی اورنمازجنازہ پڑھائی اوراس کے بعدآپ مقابرقریش اپنے جدنامدار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے پہلومیں دفن کئے گئے چونکہ آپ کے داداکالقب کاظم اورآپ کالقب جوادبھی تھا اس لیے اس شہرت کوآپ کی شرکت سے ”کاظمین“ اوروہاں کے اسٹیشن کوآپ کے داداکی شرکت کی رعایت سے ”جوادین“ کہاجاتاہے۔اس مقبرہ قریش میں جسے کاظمین کے نام سے یادکیاجاتاہے ۳۵۶ہجری میں مطابق ۹۹۸ء میں معزالدولہ اور ۴۵۲ہجری مطابق ۱۰۴۴ء میں جلال الدولہ شاہان آل بویہ کے جنازے اعتقادمندی سے دفن کئے گئے کاظمین میں جوشاندارروضہ بناہواہے اس پربہت سے تعمیری دورگزرے لیکن اس کی تعمیر تکمیل شاہ اسماعیل صفوی نے ۹۶۶ہجری مطابق ۱۵۲۰ء میں کرائی ۱۲۵۵ہجری مطابق ۱۸۵۶ء میں محمدشاہ قاچارنے اسے جواہرات سے مرصع کیا۔......./169