ابنا: خطیب جمعہ تہران نے ایران اور امریکہ کے صدور کی ٹیلیفونی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے عوام امریکی حکام کے لہجے میں تبدیلی کے بعد عملی طور سے ان کی پالیسیوں اور رویوں میں تبدیلی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے صیہونی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر اوباما کے اس بیان کی طرف کہ پابندیوں سے ایران مذاکرات پر راضی ہوا ہے ، امریکی حکام کو نصحیت کی کہ صیہونی حکومت کی چال میں نہ آئيں کیونکہ یہ حکومت غیر قانونی اور کمزور ہے اور پائداری کی طاقت نہیں رکھتی، انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کی کھوکھلی طاقت کا راز دوہزار بارہ میں غزہ پر آٹھ روزہ جارحیت میں پوری طرح برملا ہوچکا ہے۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ دین اسلام دین صلح و پرامن بقائے باہمی کا دین ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی تعلیمات کے تحت کسی بھی جنگ و جارحیت کا آغاز نہیں کرے گا لیکن ہر طرح کی جارحیت، زور زبردستی اور بلیک میلنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
خطیب جمعہ تہران نے کہاکہ ملت ایران منطق، عقلیت پسندی اور پاک جذبات پر مبنی ثقافت کی حامل ہے اور نہ صرف فلسطین کی مظلوم قوم بلکہ سارے مظلوموں اور مسلمانوں کا دفاع کرتی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے خلاف غیر منصفانہ پابندیوں اور دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندیوں سے جس قدر ملت ایران کو نقصان پہنچا ہے اسی طرح یورپ ،امریکہ اور علاقے کی قوموں کو بھی نقصان پہنچا ہے لھذا ایرانی قوم سے پہلے دوسری قوموں کو پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے امید کا اظہار کیا کہ ایران اپنی سفارتی کوششوں کے تحت سیاسی طریقہ ہائے کار پیش کرکے ان پابندیوں کو ختم کرائے گا اور دنیا کو پائدار اور منصفانہ امن کی طرف لے جائےگا۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کا حامل ہونا ملت ایران کا حق ہے اور وہ چونتیس برسوں سے اس حق پر اصرار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا مخالف رہا ہے۔
.......
/169