ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ حکومت عوامی ایشوز کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، مہنگائی کے سیلاب کو روکنے کے بجائے ایسے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن سے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے اور اس کی زد میں فقط اور فقط بےچارے غریب عوام ہیں۔ نواز حکومت کے 100دن پورے ہونے کے باجود مسائل جوں کے توں ہیں، نہ دہشتگردی پر قابو پایا جاسکا ہے اور نہ ہی عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جا رہے ہیں۔ پوری قوم کو امید تھی کہ نواز شریف انہیں ریلیف دیں گے اور ملک سے کرپشن کا خاتمے سمیت دیگر مسائل سے نجات دلائیں گے، مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ عوام پر بیک وقت بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے حکومت نے آئی ایم ایف کا وفادار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی سے عوام پہلے ہی بے حال ہیں، غریب عوام کا چولہا بجھ رہا ہے تو حکمرانوں کے بینک بیلنس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم حکومت کو باور کرانے چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آئی ایم ایف کا ایجنڈ ا نہیں چلنے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہم اس حکومتی ظالمانہ اقدام کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ جمعہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں حکومتی اقدام کیخلاف ریلیاں نکالی جائیں گی اور مظاہرے کئے جائیں گے۔ یہ عوام کے ساتھ کیسا انصاف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تو کم ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں عوام کو اس کا ریلیف دینے کے بجائے مزید قیمتوں میں اضافہ کرنے کی روایت برقرار رکھی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس ظالمانہ اقدام کو روکے اور اپنے فیصلے کو واپس لے۔ اگر حکومت اس فیصلے پر برقرار رہی تو دیگر جماعتوں کے ساتھ ملکر ایک بھرپور عوامی تحریک کا آغاز کریں گے، جس کے نتیجے میں حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائیگا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائیگا۔ ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر یہ سوچا جا رہا ہے کہ فقط ایک دو روپے کم کرکے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرلیا جائیگا تو یہ حکومت کی بھول ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پیٹرولیم اور بجلی کے نرخوں میں کئے گئے حالیہ اضافے کی مکمل واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
.......
/169