اہل بیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعیان بغداد کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ جلالالدین الصغیرـ جنہوں نے عراقی پارلیمان کے سنی اسپیکر کے ہمراہ قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے منعقدہ مجلس فاتحہ میں شرکت کی تھی اور تکفیریوں کی الزام تراشیوں کا نشانہ بنے تھے ـ نے ان الزامات نیز جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف دشمنان اسلام کی الزام تراشیوں کا جواب دیا۔
تقریر کا متن:
بعض لوگوں کی طرف سے حال ہیں میں یہ ہرزہ سرائیاں سامنے آئی ہیں کہ ہم ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی والدہ کے انتقال پر ان کی مجلس فاتحہ میں کیوں شریک ہوئے۔ ان کا لب و لہجہ مذہبی تفرقہ اندازی سے بھرا ہوا ہے اور وہی الزامات لگا رہے ہیں کہ ایران مجوس ہیں، صفوی ہیں وغیرہ وغیرہ! '
میں یاددہانی کراتا ہوں کہ افراد پر صفویت کا الزام لگانے کا سلسلہ عثمانیوں کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانیوں نے یہ اصطلاح تخلیق کردی۔
ایران ایک سنی ملک تھا تو اس زمانے میں کسی نے بھی اس پر دشنام طرازی نہیں کی۔ جب عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اول اور صفوی بادشاہ شاہ عباس صفوی کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو عثمانیوں نے ان دو مذاہب کے درمیان وسیع اختلافات ڈالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے لوگوں کو صفوی اور غیر صفوی گروپوں میں تقسیم کیا۔
دوستو! اراکین پارلیمان! نائب صدر محترم!
اگر بھول گئے ہو تو صرف میں ہی ہوں کہ تمہیں یاد دلاتا ہوں جان لو کہ تمہارے 85 فیصد سے زائد علماء اور دینی مراجع آتش پرست فارس ہیں جن پر تم دشنام طرازی کرتے ہو۔ (1)
آیئے ہم اپنے آپ اور اپنی تاریخ کا مذاق نہ اڑائیں، یہ ہوئی پہلی بات۔
دوسری بات یہ ہے کہ جنرل سلیمانی کو خاص طور پر اپنی یلغار کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ تم شاید قاسم سلیمانی کو نہ پہچانو لیکن میں اور ان لوگوں میں سے بہت، انہیں پہچانتے ہیں۔ مجھے صراحت کے ساتھ کہنے دیجئے کہ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہيں ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کی آرزو یہ ہے کہ قاسم سلیمانی کے ساتھ قریب سے ملاقات کریں۔
واللہ ثم واللہ! کہ یہ سب ان کو خطوط اور مراسلے بھیجتے ہیں اور اپنے نمائندے بھجواتے ہیں خواہ وہ سنی ہوں خواہ شیعہ ہوں، عرب ہوں یا کرد یا ترکمن، سب ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان لوگوں کی ملاقاتیں بلا ناغہ انجام پاتی ہیں۔ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ ایک راز نہیں ہے جس کو میں فاش کرنا چاہوں۔
میں اپنے اس مدعا کے اثبات کے لئے ایک مثال لانا چاہتا ہوں:
تین سال قبل مجھے اپنے دل کی اینجیو گرافی کرانی تھی۔ تہران کے ایک اسپتال میں، آپریشن ہوا تو جنرل قاسم سلیمانی میری عیادت کو آئے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میری عیادت کے لئے آنے کی کوئی ضرورت نہ تھی؛ آپ کی مصروفیات زیادہ ہیں اور مجھے آپ سے کوئی توقع نہ تھی۔ بہرحال میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا: میں آپ کے ایک دوست کی عیادت کے لئے آیا تھا جو آپ کے برابر والے کمرے میں زیر علاج ہے۔
میں نے کہا: میرا یہ دوست کون ہے؟
کہنے لگے: آپ تصور ہی نہیں کرسکتے کہ وہ کون ہوسکتا ہے۔
میں نے کہا: میری حالت ذرا بہتر ہوگی تو میں بھی اس کی عیادت کے لئے جاؤں گا تا کہ اس کو قریب سے دیکھ لوں۔
میری حالت بہتر ہوئی تو اس شخص کی عیادت کے لئے گیا اور جب میں اندر داخل ہوا تو شدید حیرت میں ڈوب گیا کیونکہ اہل سنت کی ایک شخصیت میرے سامنے تھی عجیب و غریب منظر تھا کیونکہ وہ ان افراد میں سے ہیں جو سب سے زيادہ ایرانیوں کے خلاف بولتے ہيں اور انہيں آتش پرستی اور مجوسیت وغیرہ کا طعنہ دیتے ہیں۔ اسی شخص نے ان ہی ایرانیوں سے علاج کرایا، ان کی ثقافت اور ان کی ضیافت سے فیض اٹھایا۔
دلچسپ امر ہے کہ جو شخص ایرانیوں کے خلاف تقریریں کرتا تھا وہ بذات خود ان کے ایک اسپتال میں داخل تھا۔ چنانچہ لوگوں کا مذاق مت اڑاؤ۔
قاسم سلیمانی کی مشکل ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اسرائیل کے دل میں کوئی خوف و خطر ہے تو اس میں قاسم سلیمانی شریک ہیں ـ میں یہ باضابطہ طور پر کہتا ہوں۔ اگر اس خطے میں امریکیوں کو مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے تو جان لو کہ قاسم سلیمانی اس کے ذمہ دار ہیں۔ اگر خطے میں آل سعود اور غیر آل سعود کے لئے کوئی مسئلہ پیش آیا ہے تو جان لو کہ اس میں قاسم سلیمانی کا کردار ہے۔ پس جان لو کہ امریکیوں، اسرائیلیوں اور سعودیوں نے قاسم سلیمانی کے خلاف اس جنگ کا آغاز کیا ہے۔
کیا تم چاہتے ہو کہ حقائق کو زیادہ واضح کردوں اور رسوائیوں کو برملا بیان کردوں؟ تم جانتے ہو کہ میں جانتا ہوں۔
مجھے یاد نہيں کہ 2007 تھا یا 2008، جب میں نے قطر کا دورہ کیا اور اس ذہنی توازن کھونے والے "قرضاوی" کے ساتھ ملاقات کی۔ وہ میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عراق میں مذہبی فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بات چیت کررہا تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ عراق جتنے بڑے ملک میں ایک سنی فوجی افسر بھی نہیں پایا جاتا! کیا ایسے شخص کے ساتھ بیٹھ کر یہ نہيں سمجھانا چاہئے کہ تم غلطی پر ہو؟ اگر یہ شخص اسی نادانی میں مبتلا رہے تو کیا یہ فتوے دےگا یا نہیں؟ اس کے فتؤوں کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ان فتوؤں کے بعد نوجوان اپنے آپ کو دھماکے سے اڑائیں گے یا نہیں؟
میں نے قرضاوی سے کہا کہ جانتے ہو کہ جس ملک کے بارے میں تم بات کررہے ہو اس کا وزیر دفاع ایک سنی ہے اور وزارت دفاع کے بےشمار اعلی افسران سنی ہیں؟
کہنے لگا: تم جھوٹ بولتے ہو! حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حقیقت اظہر من الشمس ہے لیکن اس کے باوجود جہل موجود ہے چنانچہ زيادہ سے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔
یہ لنک ضرور دیکھئے:
مفتی مصر کا القرضاوی سے خطاب: الزائمر کاشکارہو، خدا تمہیں شفا دےclick
تاہم جان لو کہ قاسم سلیمانی ایک تیر ہے جو اسرائیل کے دل میں پیوست ہوا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ عالم تشیع کے راہنماؤں میں ان کی طرح کے لوگ موجود ہیں، ہمیں فخر ہے۔
یہ وہ مرد ہیں کہ جنگ کے زمانے میں محاذ جنگ پر تھے جبکہ ابھی نوجوان ہی تھے۔ وہ وہاں زخمی ہوئے اور ان زخموں کے نشان ان کے بدن پر موجود ہیں۔ انہیں اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے اور وہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ زیر علاج رہنے کے بعد اسپتال سے فرار ہوجاتے ہیں۔ تحقیق شروع ہوجاتی ہے اور ان کے اہل خانہ سے تحقیق کی جاتی ہے تو ان کی مرحومہ والدہ کہتی ہیں کہ "قاسم کو محاذ جنگ پر ہی تلاش کرسکتے ہو"۔ اور ہاں! وہ اسپتال سے سیدھے محاذ جنگ پر پہنچتے ہیں اپنی دوائیوں اور زخموں کے ساتھ۔ کہتے تھے "میں اسپتال میں نہیں رہ سکتا جبکہ میرے بھائی محاذ جنگ پر شہید ہورہے ہیں"۔ یہ ہے جوانمردی اور مردانگی۔
کوئی بھی ایسا مسئلہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان نہیں ہے جس میں قاسم سلیمانی کلیدی کردار ادا نہ کرے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر وہ قاسم سلیمانی سے نفرت کرتے ہیں۔
کیا توقع ہے تمہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ان کی روشن تصویر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے؟ فطری سی بات ہے کہ وہ دنیا کی تمام مصیبتوں کا ملبہ ان کے سر پر ڈالیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل ذکر ہے کہ اشیعیان بغداد کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین جلالالدین الصغیر نے عراقی پارلیمان کے سنی اسپیکر اسامہ النجیفی اور متعدد عراقی اعلی حکام نے گذشتہ ہفتے تہران میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے منعقدہ مجلس فاتحہ میں شرکت کی تھی۔ اس مجلس میں لبنانی مہمان بھی شریک تھے۔
۔۔۔۔۔۔
1۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے بڑے بڑے ائمہ فقہ و کلام وحدیث اور تفسیر، ایرانی تھے۔ نیسابوری، نسائی، بخاری، مسلم، قندوزی، اصفہانی، طبری، ابوحنیفہ، ابن ماجہ، ترمذی، بیہقی، فخرالدین رازی وغیرہ وغیرہ سب ایرانی، فارس تھے اور طلوع اسلام سے قبل ان لوگوں کے اجداد غیرمسلم تھے جس طرح عربوں کے اجداد مشرک اور بت پرست تھے۔ اب اگر کسی کو اسلام قبول کرنے والے آباء و اجداد کے سابقہ مذہب کا طعنہ دیا جائے اور کہا جائے کہ "تم مجوسی ہو" تو کیا عربوں کو ان کے آباء و اجداد کے شرک کا طعنہ نہيں دیا جاسکتا؟ کیا آباء و اجداد کے مجوسی یا مشرک ہونے کے معنی یہی ہیں کہ ان کے مسلم پوتے پڑپوتے بھی مشرک اور مجوسی ہیں؟/ مترجم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭
جنرل قاسم سلیمانی ہمارے لئے باعث فخر ہیں؛
امام جمعہ بغدادکی کھری باتیں: کیا شیعہ صفوی ہیں؟/ سلیمانی سے نفرت کیوں؟/ قرضاوی ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں + ویڈیو
26 ستمبر 2013 - 20:30
News ID: 467207
شیعیان بغداد کے امام جمعہ نے تہران میں جنرل قاسم سلیمانی کی والدہ مرحوم کی مجلس فاتحہ میں شرکت کے حوالے سے تکفیریوں اور بیرونی قوتوں سے وابستہ لوگوں کا جواب دیا۔