26 ستمبر 2013 - 20:30
فٹ بال عالمی کپ 2022 اور قطر میں غیرملکی مزدوروں کی غلامی!

ورلڈ کپ کے لئے تعمیرات کرانے کے لئے قطری امراء نے باہر سے آئے ہوئے مزدوروں کو کام پر لگایا ہے اور اس ریاست میں نہایت برے حالات میں محنت مزدوری کرنے والے مزدوروں کی کی حالت مزید ابتر ہوگئی ہے اور آل ثانی خاندان کے امرا انہیں غیرانسانی حالات میں شدید ترین اور مشکل ترین کاموں پر مجبور کرکے ورلڈ کپ کے لئے تعمیرات میں مصروف ہوئے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ویسے تو اب یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ قطر کے سابق امیر اور وزیر خارجہ نے قطری عوام کی قومی دولت سے کروڑوں ڈالر کی رشوت دے کر در حقیقت ورلڈکپ فٹ بال 2022 کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا تھا لیکن فیفا کو فٹ بال کپ اپنے ہاں کرانے کے لئے رشوت دے کر اس ریاست میں بیرونی مزدوروں کی حالت مزید ابتر ہوگئی ہے اور اب قطر کے آل ثانی خاندان کے امرا انہیں غیرانسانی حالات میں شدید ترین اور مشکل ترین کاموں پر مجبور کرکے ورلڈ کپ کے لئے تعمیرات میں مصروف ہوئے ہیں۔ قطر نے ورلڈ کپ 2014، 2018 اور 2022 کے لئے آخری بار ووٹنگ کے دوران فیفا کے اراکین کو کروڑوں ڈالر رشوت دے کر انہيں 2022 کے ورلڈ کپ فٹ بال کا قرعہ قطر کے حق میں نکالنے پر آمادہ کیا تھا جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے متعدد ماہرین نے کہا تھا کہ قطر جیسی ریاست فٹ بال کی میزبانی کے لائق نہيں ہوسکتی ہے اور فیفا بھی ایسی ریاستوں کو ورلڈ کپ کی میزبانی کے مواقع فراہم نہیں کرتی چنانچہ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید قطری امیر ـ جو متعلقہ اجلاس میں خود حاضر تھے ـ نے رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرایا ہے لیکن اس رد عمل کو افراد کی اپنی رائے سمجھ کر غیر اہم قرار دیا گیا تھا تا ہم آج سے اسی ہفتے کے آغاز میں بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن "فیفا" کے حکام نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ قطر نے 2022 کے فٹ بال کپ کی میزبانی خریدنے کے لئے بڑی رقوم بطور رشوت ادا کی ہیں۔  جب قطر کو میزبانی کے لئے موقع فراہم کیا گیا تو رکن ممالک نے بہت شور مچایا لیکن فیفا کے سربراہ نے ان کے موقف کو الزام قرار دیا اور قطر کی حمایت کی جس کے بعد طے پایا کہ 2022 کے موسم گرما میں ـ جب قطر کی گرمی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے ـ ورلڈ کپ کی میزبانی قطر ہی کرے گا جس کے بعد ذرائع ابلاغ نے موسم گرما، قطر کی شدید گرمی اور ناقابل برداشت موسم کو موضوع سخن بنایا اور فیفا کو ترغیب دلائی گئی کہ اگر ورلڈ کپ کے لئے کھیلوں کو قطر میں ہی کرانا ہے تو بہتر ہے کہ ورلڈ کپ موسم سرما میں منعقد کرایا جائے، تاہم اس کے بعد اس موضوع کے مختلف پہلؤوں کو زیر بحث لایا گیا اور معلوم ہوا کہ قطر کے حکمرانوں نے رشوت دے کر فیفا کے اراکین کو اپنے ساتھ ملایا تھا جس کے بعد فیفا کے سربراہ نے قطری حکام کا چہرہ بےنقاب کیا۔ قطر حال ہی میں لیبیا، مصر، تیونس اور شام میں مغرب اور اسرائیل کی خدمت کرتے ہوئے کافی حد تک بدنام ہوچکا تھا اور اب جو فیفا کے سربراہ کی طرف رشوت کا الزام منظر عام پر آیا ہے تو اگر یہ الزام ثابت ہوجائے تو اس کی بدنامیوں میں ایک اضافہ اور ہوگا اور سپورٹس کے حوالے سے بھی اس کا ریکارڈ خراب ہوجائے گا۔ قطر کو میزبانی ملنے کے بعد، خلیج فارس کی اس ساحلی ریاست کے حکام نے اربوں ڈالر کا بجٹ جدید ترین اسٹیڈیم اور اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لئے مختص کیا۔ اب اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ 2022 کی میزبانی کے لئے قطر بیرونی مزدوروں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتا ہے:ورلڈ کپ کے لئے تعمیرات کرانے کے لئے قطری امراء نے باہر سے آئے ہوئے مزدوروں کو کام پر لگایا ہے اور اس ریاست میں نہایت برے حالات میں محنت مزدوری کرنے والے مزدوروں کی کی حالت مزید ابتر ہوگئی ہے اور آل ثانی خاندان کے امرا انہیں غیرانسانی حالات میں شدید ترین اور مشکل ترین کاموں پر مجبور کرکے ورلڈ کپ کے لئے تعمیرات میں مصروف ہوئے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی تحقیقی رپورٹ ملاحظہ ہو:گارڈین نے فاش کیا ہے کہ قطری حکمران 2022 کے ورلڈ کپ فٹ بال کے لئے ضروری تنصیبات کی تعمیر کے سلسلے میں غیرملکی مزدوروں سے غلاموں کے طرز پر ناجائز اور غیر قانونی فائدہ اٹھا رہے ہیں< گارڈین نے لکھا: دوحہ میں نیپالی سفارتخانے نے اس اخبار کے نامہ نگاروں کو ایک دستاویز فراہم کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قطری حکمران فٹ بال کپ کے لئے تنصیبات کی تعمیر کے لئے نیپالی مزدوروں کے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے ان کو مشقت پر مجبور کرتے ہیں۔اس دستاویز میں بین الاقوامی لیبر تنظیم کے قوانین کا حوالہ دے کر ثابت کیا گیا ہے کہ قطری حکمران ان قوانین اور مزدوروں کے تسلیم شدہ حقوق کو پامال کرتے ہوئے غیر ملکی مزدوروں سے غلامی کی حد تک، غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔  گارڈین کے مطابق قطر میں غیر ملکی مزدوروں کی حالت اس قدر ابتر ہے کہ شدید مشقت کے باعث 4 جون 2013 سے 4 اگست 2013 تک اس ریاست میں 40 غیر ملکی مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے 20 افراد دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے چل بسے ہیں جبکہ باقی بیس افراد پرمشقت کام کے دوران مختلف حادثات کا شکار ہوکر مارے گئے ہیں۔  اس رپورٹ کے مطابق عمارتوں اور تنصیبات کے ٹھیکیداروں نے کئی کئی مہینوں تک مزدوروں کی اجرت کی ادائیگی اس مقصد سے مؤخر کرلی ہے کہ وہ ان کے ماتحت کام جاری رکھیں اور ان کا کام چھوڑنے سے باز رہیں۔ اس برطانوی اخبار کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیرملکی مزدوروں کے پاسپورٹس اور سفری دستاویزات ٹھیکیداروں نے ضبط کرلئے ہیں اور انہیں شناخت کرانے کے لئے معمول کا کارڈ بھی دینے کے لئے تیار نہيں ہوئے ہیں؛ نتیجہ یہ کہ ان افراد کی حالت غیرقانونی حالت میں تبدیل ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق قطری امراء اور ان کے گماشتوں نے حتی مزدوروں کو پینے کا مفت پانی دینے سے بھی انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے 30 نیپالی مزدوروں نے بھاگ نپال کے سفارتخانے میں پناہ لی ہے اور سفارتی حکام سے درخواست کی ہے کہ انہیں قطریوں سے نجات دلائیں۔ گارڈین نے اپنی رپورٹ میں عالمی فٹ بال کپ کے انعقاد کے لئے کام کرنے والی کمپنیوں سے نقصان پانے والے مزدوروں سے بات چیت بھی شائع کی ہے اور لکھا ہے: ان مزدوروں نے بتایا کہ انہیں روزانہ 12 گھنٹے مسلسل کام پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں اس دوران کھانا بھی نہيں دیا جاتا اور بعض جگھوں پر ابتدائی سہولیات سے خالی چھوٹے کمروں میں 12 مزدوروں کو بسایا گیا ہے؛ نیز اس صورت حال پر تنقید کرنے والے ایک نیپالی مزدور  کو روزگار سے محروم کیا گیا اور اس کی کئی مہینوں کی تنخواہ بھی منسوخ کی گئی، جس کے بموجب اس کو کھانے کے لئے اپنے دوستوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ گارڈین نے لکھا: من حیث المجموع قطر کی تصویر یہ ہے کہ یہ دنیا کے صاجب ثروت ممالک می‎ سے ہے جو دنیا کے غریب ترین ملک نیپال کی غربت سے ناجائز فائدہ اٹھا کرکے 2022 کے ورلڈ فٹ بال کپ کی تیاریاں کررہا ہے۔گارڈين کے مطابق قطر میں محنت مزدوری کرنے والے غیرملکی مزدورں میں نیپالی مزدوروں کی تعداد سب سے زيادہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭