14 ستمبر 2013 - 19:30

فلسطینی اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی حکام نے اٹلی کے دارالحکومت میں صہیونی حکام شام مخالف گروپوں کے اراکین سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حال ہی میں اطالوی دارالحکومت روم میں صہیونی ریاست کے ساتھ خفیہ مذاکرات کئے ہیں۔ اس موقف پر شام مخالف گروپوں کے تین اراکین بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں اعلی سعودی و صہیونی سیکورٹی حکام نیز سعودی عرب سے وابستہ تین شام مخالف افراد، موجود تھے۔ ان تین افراد میں دہشت گردی کی کاروائیوں کا ذمہ دار شخص اور جنوبی شام میں برسرپیکار دہشت گردوں اور آل سعود کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرنے والا شخص، موجود تھے۔  انتہائی باخبر ذرائع نے فلسطینی اخبار "المنار" کو بتایا: سعودیوں نے اس ملاقات میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ شام کی حکومت اور عوام کے خلاف برسرپیکار ستر فیصد دہشت گردوں کی بقاء کا دارمدار سعودی امداد پر ہے؛ چنانچہ شام میں متعین دہشت گرد ان ہی احکامات پر عمل کرتے ہیں جو انہیں سعودی عرب کے اندر واقع "کنٹرول روم" سے موصول ہوتے ہیں اور ان کی سرکردگی کا کام سلمان بن سلطان کو دی گئی ہے حو حال ہی میں سعودی نائب وزیر دفاع کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ المنار کے ان ذرائع نے کہا کہ سعودی وفد نے غاصب صہیونی ریاست کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی کڑی نگرانی ہورہی ہے اور اس بات کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنائیں!! اور اگر حکومت شام کا تختہ الٹ دیا گیا تو لبنان کی سرحدیں مکمل طور پر بند کی جائیں گی اور "حزب اللہ کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے اقدام کیا جائے گا"۔ المنار نے ان ہی ذرائع کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ اسرائیلی وفد نے بھی آل سعود اور ان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں سے کہا ہے کہ شام پر ہونے والا حملہ اسرائیل اور عرب ممالک کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب اس کے بارے میں روس اور امریکہ ہی فیصلہ کریں گے اور روسی تجویز کے مطابق، شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا فیصلہ بھی اب میز پر ہی ہوگا اور اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے۔ سعودیوں کے حلیف اسرائیلی حکام نے کہا: ہم بھی شام کے خلاف برسرپیکار جنگجؤوں کی مدد جاری رکھیں گے، انہیں ہتھیار دیتے رہیں گے، ان کے زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کریں گے، انہیں معلومات کی فراہمی جاری رکھیں گے اور ہم سے جو بھی ہوسکے انہیں (یعنی سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو) فراہم کریں گے۔ صہیونی وفد نے کہا: تمام فریقوں کو شام کے مسئلے کے بارے میں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ روسی صدر نے شام پر حملے کے تمام حیلوں بہانوں کا خاتمہ کیا ہے اور صدر امریکہ کے پاس اب شام پر حملہ کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہے۔......../٭۔٭