7 ستمبر 2013 - 19:30
افغانستان میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے ایک بیان میں افغانستان کے شہر ہرات میں ایراں کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تاکید کے ساتد کہا ہے کہ سفارتی اصول کی بنیاد پر افغانستان میں ایران کے سفارتکاروں اور نمائردہ سیاسی دفاتر کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتے ہے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے ایک بیان میں افغانستان کے شہر ہرات میں ایراں کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تاکید کے ساتد کہا ہے کہ سفارتی اصول کی بنیاد پر افغانستان میں ایران کے سفارتکاروں اور نمائردہ سیاسی دفاتر کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتے ہے۔ اندوں نے کہا کہ اس حملے پر وضاحت کیلئے ایران میں افغانستان کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے ان سے احتجاج کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغان شہریوں کی قانونی طور پر ایران آمدورفت میں بھرپور تعارن کررہا ہے۔کل ہرات میں بعض شرپسندوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایران کے قونصل خانے پر حملہ کردیا تھا۔ہرات کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نےاس سلسلے میں دس افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔گذشتہ دسمبر میں بھی ہرات میں کچھ شرپسندوں نے اغیار کے اکسانے پر ایران کے قونصل خانے کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے اسی طرح ایران کے حوالے سے بحرین کے وزیر خارجہ کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران اپنے ہمسایہ ملکوں کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتا، کہا کہ بحرین کی حکومت اگر اپنے ملک کے عوام کے مطالبات پر توجہ دے تو اسے کسی دوسرے ملک کے خلاف ایسا الزام لگانے کے غیر منطقی ہونے کا احساس ہوجائیگا۔ انھوں نے بحرینی وزیر خارجہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے الزامات، باہمی اعتماد ختم ہونے کا باعث بنتے ہیں۔...../169