ابنا: مھر نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف نے کتھیرین ایشٹن سے اپنی ٹیلیفونی گفتگو اور ایٹمی معاملے کے تعلق سے اپنے پروگرام کے بارے میں کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان آئندہ مذاکرات باہمی احترام، برابری اور مشترکہ مفادات کے اصولوں کی اساس پر انجام پائيں گے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کی حکومت ساری دنیا سے تعمیری تعلقات اور ایٹمی مسئلے کا حل چاہتی ہے اور اگر ہمارا مد مقابل مسئلے کو حل کرنے کی غرض سے سیاسی عزم کا حامل ہو تو ایٹمی معاملے میں کافی پیشرفت ہوسکتی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یورینیم کی افزودگي سمیت ملت ایران کے ایٹمی حقوق کا احترام اور عالمی برادری کی تشویش کو دور کرنا ایٹمی مذاکرات کی دو اہم بنیادیں ہیں اور چونکہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے درپئے نہیں ہے لھذا ایٹمی معاملے میں غلط فہمیوں کا ازالہ ایران کے مفادات کے حق میں ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہاکہ پابندیوں سے ایرانی عوام کے حقوق پامال نہیں کئےجاسکتے، انہوں نے کہا کہ ظالمانہ پابندیوں سے ملت ایران کے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑے گا۔ ایران کے وزیرخارجہ نے امید کا اظہار کیا کہ ایران اور پانج جمع ایک گروپ کے درمیان سنجیدہ مذاکرات سے پابندیوں کی کوئي جگہ نہیں رہے گي۔ محمد جواد ظریف اور کیتھرین ایشٹن نے اتفاق کیا کہ مذاکرات کی جگہ اور وقت کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کی جائے گي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460003
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کو پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات کے اصولوں سے آگاہ کردیا ہے۔