ابنا: صدر مملکت نے علاقے کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ آج علاقے کو شدیدبحران اورنازک حالات کاسامنا ہےجس کی واضح مثال شام میں دیکھی جاسکتی ہے۔صدرمملکت نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئےکہ بیرونی مداخلت اورعلاقے میں دہشتگردی میں شدت علاقےمیں مسائل کی اصلی وجہ ہےکہا کہ ہماراخیال ہےکہ شام میں سب سےبڑا مسئلہ بیرونی مداخلت اور اس ملک میں دہشتگردوں کوبڑھاوا دینا ہے۔صدرمملکت نےاس امرکی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ شام میں امن واستحکام ایران کےلئے بہت اہمیت کاحامل ہے کہا کہ اس سلسلےمیں اسلامی جمہوریہ ایران پراہم ذمہ داری ہے اوراس نے شام کےعوام کےسلسلے میں ہرطرح کی انسانی کوشش انجام دی ہے اورآئندہ بھی اس کا سلسلہ جاری رکھےگی۔صدرمملکت نےکہا کہ جیساکہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے کہہ چکاہے کہ شام کےخلاف کسی طرح کافوجی اقدام نہ صرف علاقے کےنقصان میں ہے بلکہ امریکہ کےدوستوں کےنقصان میں بھی ہے۔ اور اس کاخیال ہےکہ اس اقدم کا کسی کو کوئی فائدہ نہيں پہنچےگا۔ مجلس خبرگان کےاس اجلاس کےاختتام پر ایک بیان جاری کیا گيا جس میں ایران، علاقے اور عالم اسلام کے مختلف مسائل کا ذکر کیا گيا ۔ اس بیان میں شام کے بحران اور شام کے خلاف امریکہ کے جارحانہ عزائم کےبارے میں کہاگيا کہ شام میں ہرطرح کی غیر ملکی مداخلت، عالمی قوانین کے برخلاف اور قابل مذمت ہے۔ مجلس خبرگان کے اختتامی بیان میں آیا ہے کہ شام میں تکفیریوں اور سامراج و صہیونیت کے ایجنٹ دہشتگردوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام اور جرائم سے ہر آزاد ضمیر انسان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اس بیان میں کہا گيا ہےکہ آج فلسطین، مصر، لبنان، عراق، پاکستان، افغانستان، بحرین اور دیگر اسلامی ملکوں میں جوکچہ بھی ہورہا ہے وہ عوام اور انسانی و اسلامی اقدار کے منافی ہے اور ہم سب کو دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنا چاہیئے۔ خبرگان کونسل کے بیان میں کہا گيا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرتا اور ہر ملک کے عوام کی خودمختاری ان کا مسلمہ حق ہے اور اس حق کو سلب کرنا سامراج کا ناقابل معافی جرم ہے جس کا ایک واضح نمونہ آج بحرین میں دیکھا جارہا ہے۔ اس بیان میں آیا ہےکہ اسلامی بیداری کی تحریک ایسا چراغ ہے جو کبھی نہیں بجھےگا جس نے مستقبل میں علاقے کی قوموں کی حاکمیت کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ ان مفادات اور ذخائر کو تسلط پسندوں اور ان کے پٹھوؤں سے آزاد کرانے کی بھی نوید دی ہے ۔ مجلس خبرگان کے اختتامی بیان میں کہا گيا ہے کہ مسئلہ فلسطین اور قدس شریف، عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے اور ملت فلسطین اور اسلامی سرزمینوں کےبارے میں کسی بھی طرح کی ساز باز قابل مذمت ہے۔ اس بیان میں امریکہ، صیہونی حکومت اور بعض یورپی حکومتوں کو خبردار کیا گيا ہے کہ اس سے زیادہ اپنے ہاتھوں کو نہتے عوام کے خون سے رنگين نہ کریں اور اگر آزادی اور جمہوریت کا دعوی کرتی ہیں توعوام کو یہ موقع دیں کہ وہ خود اپنے بارے میں آزادی سے فیصلہ کرسکیں۔جیساکہ صدرمملکت ڈاکٹرحسن روحانی اور مجلس خبرگان کےبیان میں اشارہ کیا گیاہے، بحران شام کااصلی مسئلہ بیرونی مداخلت اوردہشتگردوں کی حمایت ہے۔ اس خطرناک کھیل کاسلسلہ جاری رہنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شام کے موجودہ بحران کا سرچشمہ، امریکہ اوراس کےیورپی اتحادیوں کےدعوؤں کےبرخلاف کیمیاوی ہتھیاروں کااستعمال نہيں ہے بلکہ شام کواستقامت کےمحورسےالگ کرنےکی سازش ہے لیکن شام کواستقامت کےمحاذ سے جداکرنا امریکہ اوراسرائیل کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔شامی حکومت کے مخالفین کسی بھی طرح بشاراسد کے اقتدار کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے پہلے شیعہ سنی اختلافات کو استعمال کیا گیا اورنسلی وقبائلی جھڑپیں کرائی گئيں اوراس طرح بشاراسد سےدشمنی کادائرہ وسیع کیاگیا۔ درحقیقت بحران شام امریکی اسرائیلی منصوبہ ہے اورامریکہ کی نگاہ میں اس کا اصلی مقصد اسرائیل کے وجود کا تحفظ ہے اس مقصد کےحصول کےلئے امریکہ کے علاقائی اتحادیوں نے اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت شام کےبارے ميں دونظریات پائےجاتے ہيں ایک خیال یہ ہے کہ امریکہ، شام کو محدود پیمانے پرالجھاکرحالات کومخالفین کےلئے ہموارکردے اوردمشق کوسقوط کےدہانے تک پہنچا دے یہاں تک کہ بشاراسد کےبعد شام کےلئےمناسب متبادل پیدا ہوجائے لیکن دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شام کےبارے میں علاقائی اورعالمی عمل اورردعمل کےبارے میں کوئی پیشین گوئی نہيں کی جاسکتی۔ اس نظریے کی بنیاد پر بحران شام میں علاقے سےباہر کی مداخلت کاامکان موجود ہے اس صورت میں علاقہ سنگین مسائل سےدوچارہوجائےگا اورشام کے حالات بحرانوں اورخطرناک حادثات کا ماحول سازگار بنادےگا۔ان حقائق کے پیش نظر ہی ڈاکٹرحسن روحانی اورماہرین کی کونسل نے شام کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی مداخلت کو قراردیا ہےاورصدرمملکت نے یہ بھی کہا کہ ایران بخوبی جانتا ہے کہ جنگ کا آغاز اور شام پر حملہ پورے علاقے کے لئے کیا مسائل پیدا کرے گااوراسی بنا پرایران نے حالیہ دنوں ميں تمام سیاسی اوربین الاقوامی اقدامات انجام دیئے ہيں اوراس کوجاری رکھےگا۔
.......
/169