2 ستمبر 2013 - 19:30
شام پرامریکی جارحیت ٹل گئ، سعودی فرمانروا ہسپتال میں

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے آج دمشق میں شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات کی ہے۔

ابنا: علاءالدین بروجردی نے صدربشار اسد کے ساتھ ملاقات میں شام کے حالات اور دشمنوں کے جارحانہ عزائم کا جائزہ لیا۔ علاءالدین بروجردی کا کہنا ہے کہ شام پرامریکہ کی جارحیت کے بھیانک نتائج صرف شام تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ واضح رہے ایران کے سول اور فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شام پرامریکہ کی جارحیت سے پورے علاقے میں آگ لگ جائے گی اور یہ آگ ان لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لےگي جو اس کو بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کا پارلیمانی وفد ایسے موقع پر شام پہنچا ہے کہ جب مغرب اور اس وابستہ میڈیا شام کی ایک ایسی تصویردنیا والوں کے سامنے پیش کررہا کہ جہاں لوگ جنگ کے خوف سے اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار کر رہے ہیں اگرچہ جنگ کا خوف ایک فطری چیز ہے لیکن شام کے عوام تو گذشتہ دو برسوں سے حالت جنگ میں ہیں اور وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔لیکن شام کی سرحدوں کےاس پار یعنی صہیونی حکومت کےدار الحکومت، تل ابیب حیف اور دیگر شہروں میں جو صورتحال ہی وہ  نا قابل بیان ہے۔ حملے کا خدشہ اور خطرہ شام پر ہے لیکن صہنیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں خاصطور پر فوجی مراکز اور سرکاری  اداروں کے آس پاس بسنے والے علاقے کے مکین یا تو خندقوں اور بنکروں میں جا چھپے ہیں یا پھر اسرائیل سے نکل گئے ہیں۔ اگرچہ مغربی میڈیا ایسی خبروں اور رپورٹوں کو چھپا رہا ہے لیکن آج کل چونکہ میڈیا پرکنٹرول رکھنا مشکل ہوگیا لہذا ایسی رپورٹیں اور خبریں منظر عام پر آگئیں ہیں  جن میں صہیونیوں کی سراسیمگی کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔شام کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکانے کی جو کوشش کی جار ہی اس کا دھواں ابھی سے ہی صہیونیوں کی  آنکھوں کو متاثر کر رہا ہے اور زیتونوں کی سرزمین پر قابض یہودی تارکین وطن کی راتوں کی نیندیں اڑگئی ہیں۔ دوسری جانب اس جنگ کے دیگر حمایت ممالک کو بھی شامی عوام اور حکومت کی مزاحمت کے پیش نظر یہ بات سمجھ میں آگئی ہی کہ شام، لیبیا یا افغانستان نہیں ہے کہ جہاں نیٹو فورسز کے طیاروں کی گھن گرج اور راکٹی حملوں کے ذریعے  حکومت کی مزاحمت کو ختم کیا جاسکے۔ لہذا اپنی ہی لگائی آگ کی لپٹیں انہیں بھی محسوس ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔ جارحیت کے ذریعے شام میں حکو مت کے خاتمے اور وہاں امریکہ نواز اور اسرائیلی مفادات کی محافظ حکومت کو اقتدار میں لانےکا خواب چکنا چور ہوتے دیکھ کر ان کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ اس درمیان ترکی کی پوزیشن سعودی عرب اور قطر کی نسبت زیادہ خراب ہے کیونکہ سعودی عرب اور قطر میں آمریت کے ذریعے اٹھنے والے ہر آواز کو دبایا جاسکتا ہے، لیکن ترکی کی جکومت کو عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لئے قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔شام میں دوسال قبل عوامی مخالفت سر ضرور ابھارا تھا لیکن اس کو ہائی جیک کرنے میں امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی نے عجلت سے کام لیا اور شام کی آئندہ حکومت میں اپنے ایجنٹوں کو اقتدار میں لانے کی خاطر شام کی حزب اختلاف کے نام پر سلفیوں، تکفیریوں اور انتہا پسند قوتوں کو بشار اسد کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ اور اپنے غلط مفروزوں اور اندازوں کے بل پر عرب لیگ میں شام کی رکنیت تک منسوخ کر ڈالی لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا یہ لوگ اپنے اندازوں میں شام کو لیبیا اور افغانستان سمجھ بیٹھے تھے، لہذا مطلوبہ مقصد میں ناکام رہے اور اب جبکہ امریکہ نے شام پر جارحیت سے پسپائی اختیار کرلی ہے، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی پوزیشن کافی نازک ہوگئی ہے۔ ساری دنیا میں شام پر امریکی جارحیت کی مخالفت میں ہونے والے مظاہرے اور ان میں لگائے جانے والے نعروں کی گونج، سعودی عرب، قطر کے شاہی محلوں اور ترکی کے ایوان صدر اور وزارت عظمی میں سنائی دے رہی ہے۔ البتہ سعودی فرمانروا اس صورتحال کی تاب نہ لاتے ہوئے اس وقت خصوصی معالجوں کے رحم کو کرم پر ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق  شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گيا ہے۔  ڈاکٹروں تشخیص پر شاہ عبداللہ کو ونٹی لیٹر پر لگادیا ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شام عبداللہ کا علاج کتنے دنوں تک جاری رہے گا۔بہرحال جنگ کے بادل عارضی پر ٹل گئے ہیں لیکن ایک سیاسی تجزیہ کار کے بقول میں نہیں کہتا کہ شام پر حملہ ٹل گیا ہے، بلکہ حالات و واقعات کی روشنی میں ابھی اس کا مناسب وقت نہیں آیا۔ مغربی قوتوں اور ان کے حواریوں نے بھرپور کوشش کی کہ بشار الاسد کی حکومت کو تکفیری جنگجوؤں کے ذریعے کمزور کیا جائے۔ اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ مغرب والوں کی خواہش تھی کہ انہیں اس معاملے میں بلاواسطہ مداخلت نہ کرنی پڑے۔ اس کے لیے انہوں نے اپوزیشن کا سیاسی اتحاد تشکیل دیا، جسے آج بھی مغربی قوتوں اور بعض مسلمان حکمرانوں کی بھرپور آشیر باد حاصل ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ تکفیری جنگجو بشار الاسد کی فوجی قوت کو کمزور کر دیں تاوقتیکہ بشار کو لیبیا کے قذافی کی مانند مار دیا جائے یا تیونس کے سربراہ زین العابدین کی مانند ملک سے فرارکرنا پڑے۔ اس سلسلے میں مغربی قوتوں کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ بشار، قذافی کی مانند تنہا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کروز میزائل بہت پہلے سے شام میں گر رہے ہوتے۔ خلیج  فارس کے عرب حکمرانوں کے شام میں مفادات کچھ بھی ہوں، مغرب کا ایک ہی مقصد ہے۔ صہیونی اکائی کے تحفظ کے لیے لڑی جانے والی اس جنگ میں مغرب اس اکائی کے تحفظ کو یقینی بنائے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔

.......

/169