27 اگست 2013 - 19:30
شام پر ممکنہ امریکی حملہ اسرائیل کی تباہی کا پیش خیمہ

سنہ دو ہزار تین میں امریکہ نے عراق پر حملے سے قبل شور مچانا شروع کردیا تھا کہ عراق کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔

ابنا: اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے عراق کا کونہ کونہ چھان مارا لیکن ان کو وہاں سے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار ملنا تھے نہ ملے۔ اس کے باوجود امریکی حکام نے عراق کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر اس عرب اور مسلمان ملک پر حملہ اور قبضہ کرلیا۔ اب ایک عشرہ گزرنے کے بعد سنہ دو ہزارتیرہ میں ایک بار پھر امریکہ ایک اور اسلامی اور عرب ملک شام پر حملے کے لۓ پرتول رہا ہے ۔ اب کی بار وہ یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ شام کی حکومت نے مسلح دہشتگردوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کۓ ہیں۔ امریکی حکام کہہ رہے ہیں کہ بشار اسد کی حکومت نے ریڈ لائن عبور کرلی ہے اور وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کررہے ہیں۔ اس بات سے قطع نظرکہ امریکی حکام نے جس طرح عراق کے بارے میں جھوٹ بولا تھا اسی طرح وہ شام کے بارے میں بھی جھوٹ بول رہے ہیں یہاں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں مثلا یہ کہ کیا امریکی حکام شام کو بھی عراق ہی سمجھ رہے  ہیں؟ کیا ان کو بشار اسد اور صدام حسین کا فرق بھی معلوم نہیں ہے؟ کیا ان کو دو ہزار تین اور دو ہزار تیرہ کے ایک دوسرے سے مختلف حالات سے آگاہی نہیں ہے؟ کیا ان کو شام پر فوجی حملے کے خطرناک نتائج  تک کی سوجھ بوجھ  بھی نہیں ہے؟ کیا وہ اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ شام کے خلاف فوجی کارروائي کی صورت میں ناجائز صہیونی ریاست کا وجود ہی مٹ جائے گا؟ اور کیا امریکی حکام شام پر ممکنہ حملے کی یہ قیمت چکانے کے لۓ آمادہ ہیں؟شام پر امریکہ کے ممکنہ فوجی حملے کےبارے میں پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار جناب راشد احد کا تبصرہ سننے کے لۓ نیچے کلک کیجۓ۔

.......

/169